بنگلہ دیش میں متنازع حکومتی ٹربیونل نے جماعتِ اسلامی کے ایک سابق رہنما کو چالیس برس قبل ملک کی آزادی کی تحریک کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم پر مولانا آزاد پر یہ الزامات گزشتہ برس عائد کیے گئے تھے اور ان کے اہلخانہ کے مطابق انہوں نے گزشتہ برس اپریل میں سکیورٹی فورسز کے چھاپے سے قبل ملک چھوڑ دیا تھا۔

ان کے ملک چھوڑنے کے بعد جماعتِ اسلامی نے ان کی رکنیت بھی منسوخ کر دی تھی جبکہ سکیورٹی حکام نے ان کے دو بیٹوں اور ایک داماد کو حراست میں لے لیا تھا۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ عبدالکلام آزاد نے نہ صرف سنہ انیس سو اکہتر کی ’جنگِ آزادی‘ میں چھ ہندوؤں کوگولی مار کر ہلاک کیا بلکہ ایک ہندو عورت سے جنسی زیادتی بھی کی۔

ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ الزامات بنگلہ دیشی حکومت کی حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کے خلاف چلائی گئی مہم کا حصہ ہیں۔

حکومت نے مولانا آزاد کے لیے ایک وکیلِ صفائی بھی مقرر کیا تھا تاہم ان کا کہنا ہے کہ انہیں ملزم کے اہلخانہ کی جانب سے ان کے دفاع میں گواہ پیش کرنے کے لیے کوئی مدد نہیں ملی۔
انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل بنگلہ دیش کے ان شہریوں پر مقدمات چلانے کے لیے قائم کیا گیا تھا جن پر پاکستانی فوج کے ساتھ ساز باز کر کے کئی ماہ پر محیط تشدد کے دور میں زیادتیاں کرنے کے الزامات ہیں۔ اقوامِ متحدہ اس ٹربیونل کو تسلیم نہیں کرتی۔

اس ٹربیونل نے اب تک ملک کی سب سے بڑی اسلامی جماعت کے کئی رہنماؤں سمیت متعدد افراد کو جنگی جرائم میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کروایا ہے جبکہ گرفتار ہونے والے تمام رہنما جنگی جرائم کے الزامات سے انکار کرتے ہیں۔
جماعتِ اسلامی نے سنہ انیس سو ستر، اکہتر میں آزادی کی تحریک کی مخالفت کی تھی اور اس پر پاکستانی فوج کی حمایت اور پاکستانی فوجیوں کے مبینہ جرائم میں شریک ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ دسمبر سنہ انیس سو اکہتر تک آج کا بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ تھا اور اسے مشرقی پاکستان کہا جاتا تھا۔

تاہم انیس سو اکہتر کے اوائل میں علیحدگی کے لیے شروع ہونے والی لڑائی نو ماہ تک جاری رہی جس کے دوران بنگلہ دیش کے قوم پرستوں کے مطابق تیس لاکھ افراد لقمۂ اجل بن گئے تھے اور سولہ دسمبر 1971 کو بنگلہ دیش ایک الگ ملک بن گیا تھا۔
موت کی سزا سنائی ہے۔

Advertisements