خوں کا رنگ ایک ھے یہ کافی ھے
parvez

نگاہیں کھوجتے پتھرا گئیں پہاڑوں میں
آبلے پھوٹ کے رِستے رہے دراڑوں میں
اب نہ بادل میں نہ ہے جھاڑوں میں
اے خُدا تُو چُھپا بیٹھا کہاں اُجاڑوں میں

میری تشنہ لبی پہ کھا کے ترس
باز گشت وادیوں میں یہ گونجی
دیکھتا جاگتا ھوں سُنتا ہوں
ڈھونڈتے جو اُنہیں میں ملتا ھوں

آج انسان مُجھہ سے دور ھوا
آپ اپنی خودی میں چُور ھوا
آنکھیں رکھتےھوے بے نُورھوا
خود فریبی میں مثلِ حُور ھوا

نہ ہی ڈھونڈوں مُجھےدعاوں میں
نہ دکھاوے کی نیک راھوں میں
میری چاھو اگر بغل گیری
بھر لو دُشمن کو اپنی بانہوں میں

میرے دیدار کی جو چاہت ھے
چھوڑ دو ہر بُری جو عادت ھے
نہ ضروری کوئی عبادت ھے
میں وہاں ھوں جہاں محبت ھے

چاھتا ھوں تُمہیں بچاؤں میں
داہنے ہاتھہ بھی بٹھاؤں میں
قلبِ فرعون سے ہیں دل سب کے
اتنے موسیٰ کہاں سے لاؤں میں

اب بھی موقعہ ھے لوٹ آو تُم
جا کے قوموں کو یہ بتاو تُم
خود بچو سب کو بھی بچاو تُم
ابدی جیون ھے مُفت پاؤ تُم

ٹوٹا طلسم تو یہ دُعا مانگی
اے خُدا کر رحم تُو ہم سب پر
مر نہ جائیں گُناہ میں ہم دب کر
دیر نہ کر کرم تُو بس اب کر

دوستو اب ہمیں یہ کرنا ھے
سچ کی جنگ دندنا کے لڑنا ھے
ہونا اورسب کو شاد رکھنا ھے
ایک دوجے کا دم یوں بھرنا ھے

رنگ زباں اور رواج جتنے ہیں
ایک دھڑکن میں سب دھڑکنے ہیں
خوں کا رنگ ایک ھے یہ کافی ھے
آنچ پہ پیار کی پتھر سب ہی پگھلنے ہیں

پھیکے پڑ جائیں رنگ نہ اُلفت کے
دیئے بجھنے نہ پائیں چاہت کے
ہم بھی اقبال خود میں کوشاں ھوں
شجر اُگنے نہ دیں عداوت کے

Advertisements