انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت فوج اور خفیہ اداروں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام میں ناکام رہی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ فوج اور خفیہ اداروں کے اسی رویے کی وجہ سے شدت پسند مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ جمعہ کو ریلیز ہونے والی تازہ رپورٹ ’ورلڈ رپورٹ 2013‘ میں تنظیم کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنان کو تحفظ فراہم کرانے میں ناکام رہے ہیں اور شدت پسندی کے خلاف لڑائی کے نام پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔

پاکستان میں ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر علی دایان حسن کا کہنا ہے ’پاکستان میں سنہ 2012 میں جس طرح سے مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے کہ اس کے بعد وہاں انسانی حقوق کی صورتحال بدتر ہوئی ہے۔‘

تنظیم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں رواں برس خود کش حملوں، مسلح حملوں، اور طالبان اور القاعدہ سے منسلک شدت پسند تنظیموں کی جانب سے حملوں میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہا ہے
علی دایان حسن کے مطابق ’اس دوران فوج نے بلوچستان اور دیگر علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رکھیں، سنی شدت پسندوں نے شیعہ مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور طالبان نے سکولوں، طلبہ اور اساتذہ پر حملے کیے ہیں۔‘

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ 2012 میں پاکستان کی مذہبی اقلیتوں پر ہونے والے حملوں میں واضح اضافہ ہوا ہے۔

تنظیم کے مطابق رواں برس ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں پاکستان کے مختلف حصوں میں شیعہ اقلیت سے تعلق رکھنے والے تقریباً چار سو افراد کو ہلاک کیا گیا ہے۔ ان میں تقریباً 125 ہلاکتیں بلوچستان میں ہوئی ہیں اور ہلاک ہونے والے بیشتر افراد کا تعلق ہزارہ طبقے سے تھا۔

تنظیم کے مطابق 2012 میں پاکستان میں کم از کم آٹھ صحافی ہلاک ہوئے جن میں سے چار صحافی صرف مئی کے مہینے ہلاک کیے گئے ہیں اور ان ہلاکتوں کے لیے کسی کو ذمے دار نہیں ٹھہرایا گیا۔تنظیم کا کہنا ہے کہ اقلیتوں پر حملوں کا سلسلہ 2013 میں بھی جاری ہے اور دس جنوری کو دوہرے خودکش حملے میں ہزارہ طبقے سے تعلق رکھنے والے 92 افراد کو ہلاک کیا گیا اور حکومت تشدد کے اس سلسلے کو روکنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔

تنظیم نے پاکستانی حکومت پر زور دیا ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں ان افراد کو جلد سے جلد سزا دیں جنہوں نے شیعہ اقلیتوں کو اپنے کا نشانہ بنایا ہے۔

Advertisements