آسیہ بی بی کے حوالے سے حکومت پاکستان، این جو اُوز، اور ہمارے مسیحی نمایندوں کی جانب سے خاموشی کس بات کی طرف اشارہ ہے۔ پاسٹر جان باسکو،

معروف سماجی شخصیت اور گیٹ وے گیزٹ ٹی وی پروگرام کے اینکر پرسن جناب جان باسکو صاحب نے گُزشتہ رات آسیہ بی بی کے حوالے ایک پروگرام کر رہے تھے۔ آسیہ بی بی کے حوالے سے اس پُرسرار خاموشی کو توڑنے پر میں ان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میری دانست میں آسیہ بی بی کے حولے سے ان کے خدشات درُست ہیں۔ ایک بہت اہم سوال ان کی جانب سے ہوا، کہ اس وقت آسیہ بی بی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی ہی واحد جماعت ہے جو ہمدردی رکھتی ہے۔ مگر اب الیکشن ہونے والے ہیں اور حکومت بدل سکتی ہے۔ اگر پیپلز پارٹی کی حکومت جاتی ہے، تو کسی اور جماعت کی جانب سے آسیہ بی بی کے لیے کوئ نرم گوشہ نظر نہی آیا۔ صدر آصف علی زرداری سے اُمید کی جاسکتی تھی کہ اگر سُپریم کورٹ آسیہ بی بی کو سزاءموت سُناتی ہے تو صدر پاکستان یہ سزا معاف کر سکتے ہیں، مگر پیپلز پارٹی کی حکومت کی خاتمے کہ بعد تو امید کی یہ کرن بھی بجھ جایے گی۔

میں بھی اس بارے میں بہت بار لکھ چکا ہوں کہ پاکستان کہ مختلف طبقے ،سیول سوسائٹی، سیاستدان، جرنلسٹ امریکہ میں قید ڈاکٹر آفیہ صدیقی کے لیے آواز اٹھاتے ہیں ۔عجیب بات یہ ہے کہ غیر مُلک میں قید ایک بیٹی کے لیے انصاف کا اس قدر تقاضہ، اور دوسری بیٹی جو اپنے ہی ملُک میں قید ہے اُس کے ساتھ نا انصافی محض اس لیے کہ وہ ایک غریب اور مسیحی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظالم اور جابر قوموں نے ہمیشہ اسی دُنیا میں اپنے ظلُم کی قیمت چُکائ ہے۔

Advertisements