کیا پاکستان کریسچن کانگریس پاکستانی مسیحیوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہو سکتی ہے؟۔ واٹسن گل
207740_177421635643711_5671781_n
میں پاکستان کریسچن کانگرس اور جناب ناضر بھٹی صاحب کو گزشتہ پچیس سال سے جانتا ہوں۔ بلکہ اس کا حصہ بھی رہا ہوں۔ اور جناب بھٹی صاحب کی خدمات کا زاتی طور پر گواہ بھی ہوں۔ پاکستان کے اندر اور باہر بہت سی مسیحی سیاسی پارٹیاں اور پاکستانی مسیحی لیڈرز موجود ہیں۔ مگر بہت کم ہیں جو عملی طور پر مسٰحیوں کے لیے سیاسی اور سماجی میدان میں سرگرم نظر آتے ہیں۔ میں نےعملی طور پر بھٹی صاحب کو ایک نڈر اور بہادر لیڈر کے طور پر دیکھا ہے۔ اور مسیحوں کے حوالے سے جو بنیادی مسایئل جیسے کہ شناختی کارڈ میں مزہب کا خانہ، مسیحوں کی مردم شماری، حکومتی ڈھانچے میں مسیحوں کی شمولیت ، دوہرے ووٹ کا حق اور گستاخ رسول جیسے قوانین پر زبانی جمح خرچ کے بجایے عملی طور پر لڑتے دیکھا ہے۔ ناضر بھٹی صاحب میڈیا سے کھیلنے کے بھی ماہر رہے ہیں اور میرا یہ دعواہ ہے کہ پاکستان میں چھپنے والے تمام بڑے اخبارات اور جریدوں نے جتنا بھٹی صاحب کو کور کیا ہے شاید ہے کسی مسیحی لیڈر کو کور کیا ہو، خاص طور پر جب کہ بھٹی صاحب کبھی بھی پاکستان کے حکومتی سیاسسی سیٹ اپ کا حصہ نہی رہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ آج پاکستان سے باہر رہ کر بھی بھٹی صاحب نے اپنی سیاسی شناخت کو مٹنے نہی دیا بلکہ نہ صرف پاکستانی میڈیا بلکہ مغربی میڈیا بھی اگر پاکستانی مسیحوں کی بات کرتا ہے تو وہ بھی بھٹی صاحب کا زکر کرنا نہی بھولتا۔ میں نے زاتی طور بھٹی صاحب سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ پی سی سی کا حصہ رہا ہوں۔ نظریاتی اختلاف کی وجہ سے پی سی سی چھوڑی ہے اور ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آج بھی ان کی جانب سے پی سی سی میں شمولیت کی دعوت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ آج بھی مجھ جیسسے ایک عام سے کارکُن کو اس قابل سمجھتے ہیں۔

پاکستان کریسچن کانگرس کی تنظیم نو اور پھر پاکستان میں کُچھ اچھے اور بڑے نام اس کے ساتھ جُڑ گیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس سے پارٹی مضبوط ہوئ ہے۔ یورپ میں بھی معروف سماجی ، سیاسی شخصیت، شاعر اور صحافی جناب پرویز اقبال اور انتھونی نوید جیسی معروف، سماجی اور سیاسی شخصیات اپنا کردار نبھا رہی ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں بھی انسانی حقوق کے حوالے سے چند معروف نام ایڈوکیٹ جناب مشُتاق گل ، فرُخ سیف اور چند اور معروف نام شامل ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ پی سی سی اس وقت مضبوط پوزیشن میں ہے اور آنے والے الیکش میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وقت بہت کم ہے، جناب ناضر بھٹی صاحب کو جلد سے جلد چاروں صوبوں سے اپنے نمایندوں کا علان کرنا چایے۔ تاکہ ان نمایندوں اور ہماری مسیحی کمیونیٹی کے درمیان ایک رشتہ قائم ہو سکے۔ خیال رہے کہ یہ نمایندے میثاق جمہوریت اور اٹھارویں ترمیم کے تحت پارٹی چھوڑنے کی صورت میں فارخ سمجھے جاییں۔ نماعندے ایسے ہوں، جو باکردار ہوں، نڈر ہوں اور اصولی سیاست کو فروغ دیں۔ آنے والا وقت میں اسمبلیوں میں ہمارے مسیحی لیڈرز کے لیے کرسیاں پھولوں کی سیج نہی بلکہ بجلی کے جھٹکوں والی ثابت ہونگی۔ یہ میری پیشگوئ ہے۔ اور وقت بتائے گا کہ یہ سچ ثابت ہوگی۔

Advertisements