پاپائے روم پوپ بینیڈکٹ شانزدہم کی جانب سے غیر متوقع استعفے کے بعد اب عالمی توجہ اس جانب مرکوز ہوگئی ہے کہ ان کا جانشین کون ہوگا۔

پوپ بینیڈکٹ نے آٹھ سال تک کیتھولک کلیسا کی سربراہی کے بعد صحت کی خرابی کی وجہ سے فروری کے آخر میں مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے اور وہ پاپائیت کی چھ سو سالہ تاریخ میں یہ عہدہ چھوڑنے والے پہلے پوپ ہیں۔

ویٹیکن نے امید ظاہر کی ہے کہ نئے پوپ کا انتخاب ایسٹر کے تہوار سے قبل عمل میں آ جائے گا۔

اسی دوران پوپ بینیڈکٹ شانزدہم کے بھائی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مستعفی ہونے والے مذہبی پیشوا نئے پوپ کے چناؤ میں مداخلت نہیں کریں گے۔

85 سالہ کارڈینل جوزف ریٹزنگر اپریل 2005 میں پوپ جان پال دوم کے انتقال کے بعد پاپائے روم بنے تھے اور ان کے استعفے کی خبر سے نہ صرف مختلف ملکوں کی حکومتیں، ویٹیکن پر نظر رکھنے والے مبصر، حتیٰ کہ ان کے قریبی مشیر تک حیران رہ گئے ہیں۔

عام طور پر پوپ کا عہدہ تاحیات ہوتا ہے۔ روم میں موجود بی بی سی کے ڈیوڈ وِلی کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ بات ایک صدمے کے طور پر آئی ہے، لیکن تکنیکی طور پر کوئی ایسا اصول نہیں ہے جو کسی پوپ کے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے سے روک سکے۔

روایتی طور پر ایسے استعفے کی شرائط صرف یہ ہیں کہ اسے آزادنہ طور پر دیا جائے اور اسے مناسب طور شائع کیا جائے۔تاہم پوپ کے استعفیٰ کے واقعات بے حد شاذ و نادر ہوتے ہیں۔ آخری بار پوپ گریگری دوازدہم نے 1415 میں چرچ سے مخالفت کی وجہ سے استعفیٰ دیا تھا۔

جرمنی میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پوپ کے بھائی جارج ریٹزنگر نے کہا ہے کہ ان کے بھائی کو معالجین نے سفر سے گریز کرنے کو کہا ہے اور وہ کئی ماہ سے یہ عہدہ چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔

جارج ریٹزنگر نے کہا کہ ان کے بھائی کو چلنے پھرنے میں دشواری کا سامنا تھا اور ان کا استعفیٰ ’قدرتی عمل کا حصہ ہے‘۔ انھوں نے مزید کہا، ’ان کی عمر ان پر بوجھ بنتی جا رہی تھی۔ اس عمر میں میرے بھائی زیادہ آرام چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پوپ اپنے جانشین کے چناؤ کے عمل میں شریک ہونے کا بھی ارادہ نہیں رکھتے تاہم اگر ان کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے تو وہ دستیاب ہوں گے۔

رومن کیتھولک عیسائیوں کے نئے پیشوا کا انتخاب ویٹیکن کے سسٹین گرجا گھر میں ایک سو سترہ پادریوں کے اجلاس یا ’کونکلیو‘ میں کیا جائے گا۔

قیاس ہے کہ نئے پوپ کا تعلق لاطینی امریکہ سے ہو سکتا ہے جہاں دنیا کے چالیس فیصد سے زائد رومن کیتھولک عیسائی رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس عہدے کے لیے گھانا اور نائجیریا سمیت کئی افریقی ممالک کے مذہبی رہنماؤں کے نام بھی سامنے آ رہے ہیں۔

2005 میں جب سابق کارڈینل جوزف ریٹزنگر پوپ بنے تھے وہ اس وقت وہ پوپ بننے والے معمر ترین افراد میں شامل ہو گئے تھے۔

جب انھوں نے اپنا عہدہ سنبھالا تو اس وقت کیتھولک چرچ ایک بہت بڑے بحران سے گزر رہا تھا۔ اسی دوران یہ خبریں آنا شروع ہوئی تھیں کہ پادری بچوں کو زیادتی کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

Advertisements