وسطی روس میں یورل کے پہاڑوں پر شہاب ثاقب کے ٹکڑوں کی بارش کے باعث تقریباً ساڑھے نو سو افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

ماسکو سے ڈیڑہ ہزار کلومیٹر کے واقع چیلبانسک کے علاقے جہاں شہاب ثاقب کے ٹکرے گرے ہیں وہاں ایک جوہری پلانٹ اور بڑی بڑی تعداد میں فیکٹریاں ہیں۔
شہاب ثاقب کے بعض ٹکڑے ایک سکول پر گرے جس سے کئی بچے بھی زخمی ہوگئے ہیں۔
121214131727_geminids_304x171_ugc_nocredit
روسی حکام کے مطابق زخمی ہونے والوں میں بیشتر کو چھوٹے موٹی خراشیں آئی ہیں لیکن بعض کے سر میں چوٹیں بھی لگی ہیں۔

چلیابِنسک کی رہائشی پولینا نے بتایا ہے’ ہم نے چونکا دینے والی روشنی دیکھی۔ پھر آسمان میں سفید اور پیلے رنگ کی شعاع بنی۔ بڑی چوڑی اور لمبی شعاع تھی جو کئی سیکنڈ تک رہی۔ پھر ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ اتنا زوردار دھماکہ تھا کہ کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹنے لگے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق روس کے علاقے یورال پر دہکتے ہوئے شہابیےگرتے ہوئے سینکڑوں کلومیٹر دور سے دیکھے جا سکتے تھے۔

یورال کے علاقے چلیابنسک کی ایک رہائشی پولینا کا کہنا ہے کہ شہابیوں کی بارش کے باعث زمین لرز رہی تھی، کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ رہے تھے اور گاڑیوں کے الارم بج رہے تھے۔

پولینا نے بتایا ہے’ ہم نے چونکا دینے والی روشنی دیکھی۔ پھر آسمان میں سفید اور پیلے رنگ کی شعاع بنی۔ بڑی چوڑی اور لمبی شعاع تھی جو کئی سیکنڈ تک رہی۔ پھر ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ اتنا زوردار دھماکہ تھا کہ کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹنے لگے۔‘

روسی صدر ولادی میر پیوتن کے مطابق، صنعتی اور سماجی شعبوں کی کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اپنے ردعمل میں روسی صدر نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ کوئی بڑا شہابِ ثاقب کسی آبادی پر نہیں گرا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شہاب ثاقب کے ٹکڑوں کی بارش کا اس سیارچے کے زمین سے گرنے کا کوئی تعلق نہیں جو جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کو کرہ ارض سے ستائیس ہزار کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا۔اس سائز کا یہ واحد سیارچہ ہے جو زمین کے اتنے قریب سے گزرے گا۔

چلیابنسک کے گورنر میخائل یوروچ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شہاب ثاقب چباکول کے قریب ایک جھیل میں گرا ہے۔ اس علاقے کی آبادی چھیالیس ہزار افراد پر مشتمل ہے۔

چلیابنسک سے دو سو کلومیٹر دور یکاٹرینبرگ کے علاقے کے ایک رہائشی نے برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ وہ شہابیوں کی بارش کو دیکھ سکتےتھے۔

وہیں چلیابنسک کے ایک اور رہائشی نے بی بی سی نیوز کو بتایا:’ہم نے انتہائی تیز روشنی دیکھی اور پھر نیلے اور سفید آسمان پر ایک لمبی لکیر بن گئی۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ شہاب ثاقب کا ایک بڑا حصہ فضا میں ہی جل گیا جس کی وجہ سے اس کے بعض حصے زمین پر گر گئے۔

ہنگامی حالات سے نمٹنے والی وزارت کی جانب سے متاثرہ مقامات پر بڑی تعداد میں رضاکاروں کو بھیج دیا گیا ہے۔

اس سے قبل وزارت کے ترجمان نے خبر رساں ایجنسی انٹر فیکس کو بتایا تھا کہ’شہاب ثاقب کا ٹکڑا چلیابنسک علاقے کے اوپر پھٹا ہے۔‘
علاقائی ایمرجینسی ایجنسی کا کہنا ہے کہ چلیابنسک علاقے میں جو پانچ سو چودہ افراد زخمی ہوئے ہیں ان میں سے گیارہ کا علاج مقامی ہسپتال میں جاری ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لوگوں کو یہ نہیں معلوم تھا ہو کیا رہا ہے۔ ہر کوئی پڑوسی کے گھر جاکر پوچھ رہے تھے کہ وہ ٹھیک ہیں یا نہیں۔

شہاب ثاقب کے گرنے کے اس طرح کے واقعات شاز و نادر ہی ہوتے ہیں۔ اس سے قبل 1908 میں سائبیریا میں شہاب ثاقب کے گرنے کا واقع پیش آیا تھا جس سے تقریباً دوہزار مربعہ کلومیٹر کا علاقہ تباہ ہوگیا تھا۔

Advertisements