سیکٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ کا خواتین کے حقوق اور این جی اُوز کے متعلق بیان قابل مُزمت ہے، واٹسن گل۔

آٹھ مارچ یعنی آج دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ خواتین نے دُنیا بھر میں مختلف شعبہ زندگی میں اپنی خدمات سے تاریخ رقم کی۔ خواتین کسی بھی معاشرے کی تعمیر اور ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتییں ہیں۔ اور اور کسی بھی شعبے میں ان کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، چونکہ ہمارے معاشرے میں مرد کی برتری ہے اور عورت اس کے عتاب کے زیر سایہ پرورش پاتی ہے پھر بھی صبر اسے مضید طاقتور بناتا ہے۔

میرا آج کو موضع پاکستانی خواتین ہیں۔ میرا یہ ماننا ہے کہ اس پوری دنُیا میں بدقسمتی سے پاکستان کی سرزمین خواتین کے لیے جتنی تنگ ہے شاید کہیں اور ہو۔ میں اپنے اس جملے پر افسردہ ہوں۔ اس میں کوئ شک نہی کہ خواتین کے ساتھ ظلم دینا کے ہر مُلک اور معاشرے میں ہوتا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں بھی عورت کو ان حالات کا سامنا ہے۔ مگر خاص طور پر مغرب میں ایسے سخت قوانین موجود ہیں جن کے اطلاق پر عورت کے ساتھ ہونی والی زیادتی کرنے والے شخص کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مشرق وسطی، مشرق بعید، جنوبی امریکہ میں بھی صورت حال کچھ اچھی نہی مگر پاکستانی جیسی نہی۔

دُنیا کے کسی بھی حصے میں کسی بی خاتون کے لیے بیرونی خطرات سے بچنے کی سب سے محفوظ جگہ اُس عورت کے سب سے قریب ترین مرد کا سایہ ہوتا ہے۔ اگر وہ بچی ہے تو اسکا پاپا اس کے لیے کسی باڈی گاڈ سے کم نہی، اگر وہ بہن ہے تو بھائ اس کی حفاظت کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے، اور اگر وہ بیوی ہے تو اس کے شوہر کی آغوش اس کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہوتی ہے۔ مگر جب میں پاکستانی معاشرے پر خواتین کے حوالے سے سوچتا ہوں تو حیرت انگیز طور پر پریشان ہو جاتا ہوں۔ پاکستان میں خواتین کے ساتھ ہونے والی سلوک کی کہانیاں ہم روز اخبارات میں پڑھتے ہیں۔ ہرروز کئی خواتین اغواہ کی جاتی ہیں، بے حرمتی کی جاتی ہے۔ ونی اور کاری قرار دی جانے والی خواتین پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ راہ چلتی خواتین کو مردوں کے فحش جملوں کا سامنا اور اگر کوئ خاتون ہمت کر کے کسی کو جواب دےدے تو جواب میں تیزاب کا حملہ۔ میں جو بات کہنے جا رہا ہوں اس پر کسی بھی فورم پر کسی بھی سطع پر ڈبیٹ کے لیے تیار ہوں۔ کہ پاکستان میں خواتین غیر مردوں کے ظلم کا نشانہ تو بنتی ہیں، مگر شاید پاکستان دنیا کا واحد ملُک ہے جہاں ان خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد اپنے ہی محافظوں کے ہاتھوں بے دردی سے قتل کر دی جاتی ہیں۔ کہیں تو یہ شوہر کے ظلم کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں، نشئ شوہر کو اگر بیوی کام کاج کے لیے کہتی ہے تو وہ یا تو تیزاب پھینک دیتا ہے، یہ مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا دیتا ہے۔ عزت کی خاطر وہ باپ جس گُڑیا رانی کو پال پوس کر جوان کرتا ہے ، اُسے اپنے ہی ہاتھوں ٹکڑے کرنے کے واقعات جتنے پاکستان میں ہوتے ہیں، شاید ہی کیہں ہوتے ہوں۔ اس کے علاوہ رہی سہی کثر وہ ویر پوری کرتے ہیں جن کے لیے یہ بہینیں ہر وقت دُعاییں کرتی ہیں۔ کہیں تو عزت اور غیرت کے نام پر اور کہیں شک کی بنیاد پر سالانہ ہزاروں خواتین اس پاکستان میں اپنے ہی بھائیوں کے سفاک ہاتھوں سے لقمہ اجل بن جاتی ہیں۔ جو پہلو سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے وہ یہ ہے کہ بہت سے کیس بعد میں سامنے آتے ہیں کہ ان واقعات کے پیچھے اکثر جایئداد کا جھگڑا ہوتا ہے۔ ان واقعات کے حوالے سے ایک اور بدصورت پہلو ہے اور وہ یہ ہے کہ اکثر لڑکیاں جو اپنے ہی گھر کے مردوں کے ہاتھوں قتل ہوتی ہیں، تو قاتل بہت ہی آسانی کے ساتھ قصاص ادا کر کے با عزت رہا ہو جاتا ہے۔ اگر ایک بھائ اپنی بہین کو قتل کرتا ہے تو مقتولہ کا باپ یا دوسرا بھائ یا پھر ماں جو کی کیس میں مدعی ہوتے ہیں، خون معاف کر دیتے ہیں۔
خواتین کے لیے پاکستان میں کوئ آواز نہی اُٹھاتا، سوائے چند این جی اُوز کے، اور بہت سے مزہبی تنظیموں کو یہ این جی اُوز ایک آنکھ نہی بھاتی۔ آج ہی ایک اخبار میں سیکٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ کا بیان دیکھ کر اُس پر تو نہی مگر اس اخبار پر غصہ آیا کہ وہ ایک ایسے شخص کے بیان کو اہمیت دیتا ہے جس نے نہ تو کبھی خود اور نہ کبھی اس کی جماعت نہ عقل کی بات کی۔ یہ وہ جماعت ہے جس نے تعلیمی اداروں میں اسلحہ متعارف کروایا۔ عورتوں کے حقوق کے حوالے سے کبھی کوئ تحریک نہی چلائ بلکہ اگر کسی تنظیم یا حقوق نسواں سے متعلق این جی اُو نے آواز بُلند کی تو اُن کو جماعت اسلامی کے غضب کا سامنا کرنا پڑھا۔

Advertisements