وُکلا برگیڈ نامی بدمعاش وکیلوں کے گروپ کی سزا کے بجایے مُشرف کے حامیوں کو سزا کا سامنا؟۔

وکیلوں کے ایک بدمعاش ٹولے نے دو سالوں سے سیول سوسائٹی، صحافی، پولیس، سیاست دانوں ، ججوں اور شُرفاء کے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ وکلا برگیڈ نامی یہ ٹولہ اپنی مرضی کے فیصلے کے خلاف ججوں تک کو جوتے مارنے سے گُریز نہی کرتے۔ اور پولیس کے جوانوں کو تو یونیفارم میں بھی مارنے سے گریز نہی کرتے جو کہ ایک جُرم ہے۔ یہ ٹولہ اپنے آپ کو عدالتوں کا محافظ کہتے ہیں اور آپ ان کی قانون شکنی کی ہزاروں ویڈیوز یوٹیوب پر دیکھ سکتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ ٹولہ وکلا گردی عدالت کی چاردیواری میں کرتے ہیں چایے وہ چاردیواری سپریم کورٹ کی کیوں نہ ہو، مگر آج تک اس پر کبھی بھی سوموٹو ایکشن نہی لیا گیا۔ مگر تییس اپریل کو بینظیر بھٹوقتل کیس میں سابق صدر پرویز مُشرف کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں آمد کے موقع پر وکلا برگییڈ اور مُشرف کے حامیوں میں کے درمیان جھڑپ میں صرف مُشرف کے حامیوں کے خلاف ایکشن سمجھ سے باہر ہے۔ یاد رہے کہ یہ وکلا کا ٹولہ جب سے مُشرف عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں ان کی تزلیل کی کوشش کر رہا ہے۔ کئ بار ان پر حملہ بھی کر چکُا ہے ، ایک بار سابق صدر پر جوتا بھی اُچھال چکا ہے ۔ مگر سخت سیکیوریٹی کی وجہ سے کامیاب نہ ہو پایا۔ یہ ہی ٹولہ تین بار مُشرف کے حامیوں کو تشدد کا نشانہ بنا چُکا ہے، مگر کوئ ایکشن نہی ۔ اس بار مشرف کے حامی پوری تیاری سے آیے تھے، اور انہوں نے بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیا۔ تو آل پاکستان مُسلم لیگ کے بہت سے حامیوں کے خلاف مقدمات بنا کر ان کو چودا دن کے جوڈیشنل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بجھوا دیا گیا ہے۔ ان میں راجہ مسعود، راجہ محمد نصیر، سید قلب عباس، جمشید، طارق مسیح، یاسر خان، مدثر حسین، سید طالب، محمد فیاض، گُل نواز وغیرہ ہیں۔ پاکستان کا تمام میڈیا اس وکلا گردی پر بہت شور کرتا ہے، اب دیکھنا یہ ہے اس بار میڈیا کا کیا ردعمل ہے۔

Advertisements