نیدرلینڈز کی ملکہ بیاترس کی تخت سے دستبرداری کے بعد ان کے بیٹے ولیم الیگزینڈر ملک کے نئے بادشاہ بن گئے ہیں۔
یہ 1890 کے بعد پہلا موقع ہے کہ ملک میں کوئی بادشاہ حکمران ہے۔
75 سالہ ملکہ بیاترس نے منگل کو اپنے محل میں تخت و تاج سے دستبرداری کی دستاویز پر دستخط کیے۔ وہ گزشتہ 33 برس سے نیدرلینڈز کی ملکہ تھیں
اس منظر کو محل کے باہر جمع ہونے والے دسیوں ہزاروں افراد نے بڑی سکرینوں پر براہِ راست دیکھا اور نئے بادشاہ کا خیرمقدم کیا۔
ملکہ نے جنوری میں اپنی دستبرداری کے متعلق اعلان کرتے وقت کہا تھا کہ ان کے صاحبزادے اب قیادت کے لیے تیار ہیں اور تخت و تاج نئي نسل کے حوالے کرنے کا وقت آگیا ہے۔
منگل کی صبح محل میں منعقدہ ایک مختصر لیکن شاندار تقریب میں ملکہ بیاترس باقا‏عدہ طور پر اپنے تاج سے دستبردار ہوئیں۔
اس کے بعد پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے پہلے ان کے بیٹے پرنس ولیم الیگزینڈر نے بادشاہت کا حلف اٹھایا۔
شاہ ولیم الیگزینڈر کی تاج پوشی کی تقریب منگل کی دوپہر منعقد ہوگی جب وہ اپنی ارجنٹائن نژاد ملکہ میکسیما کے ہمراہ تخت نشین ہوں گے۔
ملک میں نئے شاہ کی تاج پوشی پر زبردست جشن کا انتظام کیا گیا ہے اور دارالحکومت ایمسٹرڈم ملک کے شاہی رنگ نارنجی میں رنگا ہوا ہے ۔امکان ہے کہ اس موقع پر دارالحکومت میں جشن منانے کے لیے تقریبا دس لاکھ لوگ جمع ہوں گے۔
اقتدار کی منتقلی کی اس تقریب میں برطانیہ کے پرنس چارلس، پرنس فلپ، سپین کی شہزادی لیتیزا اور ڈنمارک کے شاہ فریڈرک سمیت دنیا کے کئی بادشاہ، ملکائیں اور شہزادے شریک ہوئے۔
اس سے پہلے پیر کو ملکہ بیاترس نے عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا تھا کہ عوام کے عزم و حوصلے نے انہیں تینتیس برس تک اس عہدے پر برقرار رکھنے میں مدد کی۔
ان کا کہنا تھا ’اگر آپ کا حوصلہ اور پیار نہیں ہوتا تو، جو مسائل تھے، وہ ہم پر بہت بھاری پڑتے۔‘ نیدرلینڈز میں بھی شاہ یا ملکہ کو کچھ اختیارات حاصل ہیں لیکن وہ بس رسمی ہوتے ہیں۔
ملکہ بیاترس کا تعلق اورینج ناسو کے خاندان سے ہے جو نیدر لینڈ پر انیسویں صدی سے حکمران ہیں۔
ملکہ بیاترس کی ماں جولیانا سنہ انیس سو اسّی میں اکہتر برس کی عمر میں اپنی بیٹی کے حق میں دستبردار ہوئی تھیں اور ان کی دادی واہل مینیا نے سنہ انیس سو اڑتالیس میں انہتر برس کی عمر میں تاج اپنی بیٹی کو سونپ دیا تھا۔

Advertisements