سربجیت سنگھ پر جس دن جیل میں حملہ ہوا، میں نے اسی دن پیش گوئ کی تھی کہ یہ واقعہ بھارت میں موجود پاکستانی قیدیوں کے لیے حملوں کا جواز بنے گا، واٹسن گل۔

اپریل 26, 2013 ،کا گلوبل کریسچن وائس دیکھ سکتے ہیں۔

بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی کوٹ بھلوال جیل میں قیدیوں نے حملہ کر کے وہاں قید ایک پاکستانی شہری کو شدید زخمی کر دیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جیل میں قید چھتیس سالہ ونود کمار نے ثناءاللہ کے سر پر تیز دھار ہتھیار سے حملہ کیا۔
اسی بارے میں
پاکستان نے بھارت کے زيرِ انتظام کمشير کي جيل میں قيد ثنا اللہ پر قيديوں کے حملے کي مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی قيدي پر حملہ بھارتی قيدي سربجيت سنگھ پر حملے کا بدلہ ہے۔
بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر کے زخمي ثنا اللہ تک رسائی کا مطالبہ ہے۔ ثنا اللہ جو جموں کي جيل ميں عمر قيد کي سزا بھگت رہے تھے قيديوں کے حملے ميں شديد زخمی ہوگئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق جمعہ کی صبح آٹھ بجے ونود کمار اور ثناءللہ سربجیت سنگھ کی موت پر تبادلۂ خیال کر رہے تھے کہ دونوں میں کسی بات پر تکرار ہوئی۔
اس دوران ونود کمار نے ایک گیتی سے ثناءاللہ کے سر پر وار کیا جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔ ونود کمار کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ سابق بھارتی فوجی ہیں جو چھ سال قبل لداخ میں اپنے ساتھی کے قتل کے الزام میں گرفتار ہوئے تھے۔
سربجیت سنگھ پر پاکستان میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں سزائے موت کے منتظر دو قیدیوں نے حملہ کیا تھا اور وہ زخموں کی تاب نہ لا کر جمعرات کو انتقال کر گئے تھے۔
جیل کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے کے بعد باون سالہ ثناء اللہ کو ابتدائی طور پر جموں کے گورنمنٹ میڈیکل کالج ہسپتال لایا گیا۔
نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق ہسپتال کے ناظم منوج چلوترا کا کہنا ہے کہ ان کے سر پر گہری چوٹ کی وجہ سے دماغ کا کچھ حصہ بھی باہر آ گیا ہے اور تشویش ناک حالت کی وجہ سے انہیں خصوصی فضائی ایمبولینس میں چندی گڑھ منتقل کیا جا رہا ہے۔
بھارتی محکمۂ داخلہ نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور محکمے کے ایک افسر کے مطابق کوٹ بھلوال جیل کی نگران افسر رجنی سہگل کو معطل کر دیا گیا ہے۔
“ثناءاللہ دراصل اُنیس سو چورانوے میں غیرقانونی طور پر لائن آف کنٹرول عبور کر کے کشمیر آیا تھا اور یہاں عسکری مزاحمت کا حصہ رہا۔ وہ سترہ برس سے قید ہیں اور ان پر دہشت گردی کے آٹھ واقعات میں مقدمات درج ہیں جن میں سے دو معاملوں میں انہیں عدالت نے عمرقید کی سزا سنائی ہے۔”
بھارتی پولیس
پولیس کا کہنا ہے کہ ثناءاللہ دراصل اُنیس سو چورانوے میں غیرقانونی طور پر لائن آف کنٹرول عبور کر کے کشمیر آیا تھا اور یہاں عسکری مزاحمت کا حصہ رہا۔ وہ سترہ برس سے قید ہیں اور ان پر دہشت گردی کے آٹھ واقعات میں مقدمات درج ہیں جن میں سے دو معاملوں میں انہیں عدالت نے عمرقید کی سزا سنائی ہے۔
ادھر پاکستان کے دفترِ خارجہ نے ثناءاللہ پر ہونے والے حملے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ثناء اللہ جو کہ عمر قید کی سزا بھگت رہا ہے جمعہ کی صبح ہونے والے حملے میں شدید زخمی ہوا ہے۔
بیان کے مطابق ثناء اللہ کی حالت نازک ہے اور نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے ان سے ملاقات کی اجازت طلب کی ہے۔ دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ پاکستانی جیل میں دورانِ قید حملے میں بھارتی قیدی سربجیت سنگھ کی ہلاکت کا واضح ردعمل ہے جو کہ قابلِ مذمت ہے۔
پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ ثناءاللہ کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور اس معاملے کی مفصل تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو قرارِ واقعی سزا دی جائے۔
بھارت نے جموں کی جیل میں پاکستانی قیدی پر کیے گئے حملے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور پاکستانی ہائي کمیشن کے حکام کو متاثرہ قیدی تک رسائی دینے کا وعدہ کیا ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اکبرالدین نے ایک بیان میں کہا ’ ثنااللہ پر حملہ قابل افسوس ہے۔ ابھی ان کے علاج پر توجہ دی جارہی ہے اور طّبی انتظامات کے بعد سفارتی عملے کو ان تک رسائی دی جائیگي۔‘
بھارتی حکومت کی جانب سے حملے کی محرکات کے سلسلے میں ابھی کوئي باضابطہ بیان نہیں آيا ہے لیکن سینیئر مرکزی وزیر اور بھارت نواز کشمیری رہنما فارق عبدااللہ کے مطابق سربجیت کے ساتھ سلوک پر غصے کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آيا۔
ان کا کہنا تھا ’ سربجیت کے معاملے پر یہاں بہت غصہ ہے تو کچھ قیدیوں پر حملے تو ہونگے۔ ہم اسے صحیح نہیں سمجھتے لیکن ہم اپنے غصے کو جتنا ہوسکتا ہے اتنا کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
ادھر انسانی حقوق کے بعض اداروں کا کہنا ہے کہ سربجیت سنگھ کی پاکستانی جیل میں ساتھی قیدیوں کے ہاتھوں موت کے بعد کشمیر کی جیلوں میں پاکستانی قیدیوں کی سلامتی خطرے میں پڑگئی ہے۔
بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق اس وقت بھارتی جیلوں میں 220 پاکستانی قید ہیں اور اس تعداد میں وہ ماہی گیر شامل نہیں جنہیں بین الاقوامی پانیوں کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا جاتا ہے۔

Advertisements