قائدِاعظم کا وِژن ،سیمسن طارق
اب ٹکراؤ صِرف اور صِرف قائدِاعظم کے وِژن اور طالبان کے وِژن میں ہے ـ ایک طرف پرو طالبان جماعتیں ہیں تو دوُسری طرف وہ قوتیں ہیں جِن کو اب اقلیتوں میں نام لِکھوانے کے مشورے بلکہ طعنے مِل رہے ہیں ـ پاکستان قائدِاعظم کی انتھک کوششوں سے معرضِ وجُود میں آیا اور اُنکی تقریر آن ریکارڈ ہے کہ تمام پاکستانی برابر ہیں مذہب اور کاسٹ اُنھیں ایک دوُسرے سے جُدا نہیں کر سکتے ـ اُنھوں نے مزید کہا کہ آپ آزاد ہو اپنی مساجد میں جانے کیلئے ـ مندروں میں اور اپنی عبادت گاہوں میں جانے کیلئے ـ آپ خواہ کِسی بھی ذات یا مذہب سے ہوں ہم سب شہری ہیں اور برابر کے شہری ہیں ریاست کے ـ تو پھِر آج اِتنی تفاوت کیوں جبکہ یہی قوتیں جو آج پاکستان کو یرغمال بناۓ ہوُۓ ہیں اور واحد وارث سمجھتی ہیں اپنے آپکو یہ قائداعظم کی مخالفت کرتی تھیں ـ تاریخ گواہ ہے اِن سب باتوں کی اور تاریخ کو مٹایا نہیں جا سکتا لہذا ضرورت اِس بات کی ہے کہ پاکستان کو صِرف اور صِرف قائدِاعظم کے وِژن کے مُطابق چلنے دِیا جاۓ ـ اِس وِژن میں تبدیلی کِسی بھی صوُرت میں پاکستان کے حق میں نہیں ـ پاکستان اب صِرف دُعاؤں کے سہارے ہی نہیں چل سکتا بے شک دُعائیں تو ہر وقت ضروری ہیں لیکن اب اچھے کاموں کی ـ اچھی تعلیم کی اور لِبرل قیادت کی ضرورت ہے جو دیانتدار بھی ہو ـ لوٹوں اور لُٹیروں کو وقت ہے کہ اُنھیں سختی سے رد کر دِیا جاۓ ـ

Advertisements