نکاحِ متعہ یا وقتی شادی، ایک قدیم اسلامی روایت ہے جس کے تحت ایک مرد اور عورت کی ایک مقررہ مدت کے لیے شادی کر دی جاتی ہے۔ تاریخی تناظر میں اس کا استعمال اس لیے کیا جاتا تھا تاکہ طویل فاصلے تک سفر کرنے والے افراد مثلاً تاجروں یا فوجیوں، کے پاس کوئی قانونی بیوی ہو۔ مگر نوجوان برطانوی مسلمان اسے کیوں اپنا رہے ہیں؟
برمنگھم کی سارہ کا کہنا ہے کہ ’اس کے ذریعے ہمیں شریعہ کی خلاف ورزی کے بغیر ایک دوسرے سے ملنے کا موقع مل گیا۔ ہم شاپنگ کے لیے جانا چاہتے تھے، کھانے کے لیے جانا چاہتے تھے اور ایک دوسرے کو شادی سے پہلے جاننا چاہتے تھے۔ ہم (متعہ کے بغیر) یہ سب نہیں کر سکتے تھے۔‘ سارہ کی عمر تیس سال ہے اور وہ پاکستانی نژاد شیعہ مسلمان ہیں۔
سارہ نے اپنی روایتی شادی سے پہلے چھ ماہ تک کے لیے اپنے شوہر سے نکاحِ متعہ کیا تھا۔ سارہ کہتی ہیں ’یہ بنیادی طور پر ایک معاہدہ ہے۔ آپ بیٹھ کے اپنی شرائط طے کرتے ہیں اور کسی ایسی لڑکی جس کی پہلے شادی نہ ہوئی ہو، اُس کے متعہ کے لیے آپ کو لڑکی کے والد کی اجازت چاہیے ہوتی ہے۔‘
سارہ کا مزید کہنا ہے کہ ’ہم نے مدت اور میرے والد کی شرائط کا تعین کیا اور میں نے حق مہر (مرد کی جانب سے خاتون کو دیا جانے والا تحفہ) کا مطالبہ کیا۔ یہ سب انتہائی سادہ تھا اور اس میں زیادہ وقت نہیں لگا۔‘
سارہ اُن متعدد برطانوی نوجوان مسلمانوں میں سے ایک ہیں جو کہ متعہ کا استعمال کر کے اپنے مذہبی عقیدے اور مغربی طرزِ زندگی کے درمیان توازن پیدا کر رہے ہیں۔
متعہ کی غیر رسمی نوعیت کی وجہ سے برطانیہ میں ہونے والی متعہ شادیوں کے بارے میں اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔ تاہم متعدد شیعہ مسلمان علماء اور مسلمان طلبہ تنظیموں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس طرح کی شادیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مسلمانوں کے درمیان نکاحِ متعہ کے حوالے سے تضاد پایا جاتا ہے۔ شیعہ مسلمان کا ماننا ہے کہ اس کی اجازت مذہب میں دی گئی ہے جبکہ سنی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ یہ حرام ہے۔
بریڈ فورڈ یونیورسٹی کی اہل البیت اسلامی سوسائٹی کے صدر عمر فاروق خان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں میں نکاحِ متعہ کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
وہ کہتے ہیں ’جیسے جیسے مزید طلبہ کو اس کے بارے میں پتا چلتا ہے ویسے ویسے بلاشبہ اس میں اضافہ ہورہا ہے۔ طلبہ تعلیم یافتہ افراد ہوتے ہیں اسی لیے وہ اپنے مسائل کا حل اسلامی تناظر میں ڈھونڈتے ہیں۔‘
عمر فاروق خان کا مزید کہنا ہے کہ بہت سے لوگ ابھی بھی اس موضوع پر بات نہیں کرتے اور اسے ایک ممنوعہ موضوع سمجھا جاتا ہے۔‘
برطانیہ کی اسلامک شریعہ کونسل کی ترجمان اور ایک سنی مسلمان خولہ حسن کہتی ہیں کہ نکاحِ متعہ کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔ اُن کے مطابق یہ جسم فروشی کے مترادف ہے۔
وہ کہتی ہیں ’مجھے آج تک تاریخ میں کوئی بھی سنی عالم نہیں ملا جس کا کہنا ہو کہ نکاحِ متعہ حلال ہے۔‘
نکاحِ متعہ میں نکاح کی مدت اور دیگر شرائط پر اتفاق کیا جاتا ہے۔ نکاحِ متعہ کرنے والے ایک فرد کے والدین کا کہنا ہے کہ اس میں ایسی شرائط بھی رکھی جا سکتی ہیں کہ شوہر اور بیوی کے درمیان کوئی جسمانی روابط نہیں ہوں گے۔
یہ نکاح چند گھنٹوں سے لے کر کئی سالوں تک کے لیے ہو سکتا ہے۔
لندن کے الخوئی سینٹر کے سید الفدہیل ملانی کو برطانیہ کے اہم ترین شیعہ رہنما تصور کیا جاتا ہے اور انھوں نے اپنی کتاب میں نکاحِ متعہ کا ذکر بھی کیا تھا۔
اُن کا کہنا ہے کہ ’پیغمبرِ اسلام کے دور میں (نکاحِ اسلام) کا استعمال کیا جاتا تھا خاص طور پر جب مرد جنگ یا کاروبار کے لیے دور دراز علاقوں میں جاتے تھے۔‘
’اسلام میں گرل فرینڈ یا بوآئی فرینڈ جسے روابط کی اجازت نہیں اسے لیے نکاحِ متعہ ایک دوسرے کو جاننے کا موقع دیتا ہے۔‘
سید الفدہیل ملانی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اس معاملے پر فرقہ وارانہ اختلاف ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’اسلام کے دوسرے خلیفہ عمر ابن الخطاب نے خود بھی کہا تھا کہ متعہ کی پیغمبرِ اسلام کے وقت پر اجازت تھی مگر انھوں نے اسے ممنوع قرار دیا اور کہا کہ وہ متاع کرنے والوں کو سزا دیں گے۔‘
’چنانچہ چند سنی مسلمان اس کی مخالفت اس لیے کرتے ہیں کیونکہ وہ خلیفہِ دوئم کی کردہ تشریح اور تجویز کی پیروی کرتے ہیں جبکہ شیعہ افراد کا دعویٰ ہے کہ وہ قرآن و سنت کی پیروی کر رہے ہیں۔‘
البتہ نکاحِ متعہ وقتی شادی کا ایک شیعہ طریقہ ہے، تاہم سنی مسلک کے افراد بھی غیر روایتی طرز کی شادیاں کرتے ہیں جن میں مصیار اور عرفی شامل ہیں۔
مصیار کے تحت شادی کرنے والے دونوں افراد باہمی اتفاق کے ذریعے ایک دوسرے سے علیحدہ رہتے ہیں اور عُرفی میں لڑکی کے سرپرست کی اجازت کے بغیر نکاح کیا جاتا ہے۔ تاہم ان دونوں میں مدت کا تعین نہیں کیا جاتا۔
ان غیر روایتی طرز کی شادیوں کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ایک سے زیادہ افراد کے ساتھ جنسی روابط قائم کرنا ہے اور اس طرز کے نکاحوں کو جسم فروشی اور عورتوں کے ساتھ زیادتی کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور بے جا اسلامی ڈھال دی جا رہی ہے۔
بی بی سی کو کئی ایسے واقعات کا پتا چلا ہے جہاں ان غیر روایتی شادیوں کو صرف اور صرف جنسی تعلقات کے لیے مذہبی اجازت کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
لندن میں مقیم اور شیعہ اسلام قبول کرنے والے عمر علی گرانٹ نے اب تک تیرہ غیر روایتی شادیاں کیں ہیں۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی زندگی گزارنے کے لیے درست ساتھی کی تلاش کر رہے تھے۔ انھوں نے اس بات کو مانا ہے کہ ان شادیوں کو نکاح سے قبل جنسی تعلقات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اُن کا کہنا ہے ’اسلام میں جنسی روابط حرام نہیں ہیں۔ اسلام میں جنسی تعلقات کا منفی تناظر نہیں۔ یہ کوئی ناپاک یا بری چیز نہیں۔‘
وہ کہتے ہیں ’اسلام کا کہنا یہ ہے کہ جنسی روابط دو بالغ افراد کے درمیان باہمی اتفاق سے ہونا چاہیے جو کہ ذمہ دار ہوں۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ وقتی شادی کی وجہ سے جسم فروشی ہوگی، جبکہ ایسا نہیں ہے۔ مسلم دنیا میں جسم فروشی ہوتی ہے اور وہ ساری دنیا میں ہوتی ہے۔‘

Advertisements