پاکستانی ڈچ کریسچن کمیونیٹی کے معزز اراکین، ساجد بھٹی، جاوید روبن گل، مورس عنایت اور واٹسن گل اگوکی کے گاﺅں جوڑیاں کلاں سے بے دخل کیے جانے والے مسیحیوں کے واقعہ کی پُرزور مُزمت کرتے ہیں، اور نو منتخب وزیراعظم جناب نواز شریف سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس واقعہ کا جلد سے جلد نوٹس لیں، اور ان بے گھر مسیحوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایں۔

سیالکوٹ (نامہ نگار) مسیحی نوجوان سے محبت کی شادی پر پنچایت نے مسیحی آبادی کوگاﺅں بدر کردیا ہے جبکہ مسیحی نوجوان سے شادی کرنےو الے 24سالہ حاملہ لڑکی کو اس کے ورثاءنے یرغمال بناکر ایک کمرہ میںبند کردیا ہے اور سخت پہرہ بٹھادیاہے ۔تھانہ اگوکی کے گاﺅں جوڑیاں کلاں میں شاہدمسیح نے چھ ماہ قبل حجام حمید کی24سالہ بیٹی اقراءکے ساتھ محبت کی شادی کی تھی لیکن جب اقراءکے ورثاءاور گاﺅں کے لوگوں کو اس بات کا علم ہوا تو سابق یونین ناظم ظہور الحسن کی سربراہی میں بیٹھنے والی پنچایت نے متفقہ طور پر مسیحی آبادی کوگاﺅںچھوڑ دینے کا حکم دیدیا جس کے بعد مسیحی آبادی کے سینکڑوں مکین اپنے گھروں کو تالے لگا کر گاﺅں چھوڑ کر چلے گئے۔ 24 سالہ اقراءنے بتایا شاہد نے شادی سے قبل مسلمان ہوجانے کا اعتراف کیا تھا لیکن اس سے چھوڑ کر دوبارہ عیسائی ہوگیا ہے اور اس وجہ سے اس کی زندگی تباہ ہوگئی ہے ۔ گاﺅں کی پنچایت کے سربراہ سابق یونین ناظم ظہور الحسن کا کہنا ہے مسلمان لڑکی اور مسیحی لڑکے کے خاندان کے افراد کو گاﺅں میں دوبارہ رہنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ تھانہ اگوکی پولیس کا کہنا ہے گاﺅں میں مسلم مسیحی فساد کے بچاﺅ کیلئے واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں۔ (نوائےوقت پانچ جون)

Advertisements