صفائی نِصف ایمان ہے
کل کی بات ہے میں ایک پارک کے باہر ایک سائڈ بنچ پر بیٹھا ہُوا تھا ـ پارک میں کھیلوں کے لئے مُختلف میدان تھے جبکہ ایک طرف کُتوں کو گھُمانے کا میدان بھی تھا ـ لوگ اپنے اپنے کُتوں کے ساتھ آ جا رہے تھے جو سیدھے چھوٹا سا گیٹ کھولتے اور بمعہ اپنے اپنے کُتوں کے میدان میں داخل ہو جاتے جِس کی چاروں طرف فینس تھا ـ ایک گوری خاتُون آئی اور ابھی وہ گیٹ کھول کر میدان کے اندر نہیں گئی تھی کہ اُس کے کُتے نے گند کر دِیا ـ واہ! گوری خاتُون نے اپنی جیب سے تھیلی نکالی اور جھٹ سے اُس گند کو تھیلی میں اُٹھا لیا ـ اور پھِر آگے گیٹ تک جاتے جاتے پہلے سے پڑے ہُوئے کُچھ گند کو بھی اُٹھا لیا اور ہاتھ میں پکڑے پکڑے اُس وقت تک لئے پھِرتی رہی جب تک وہ مخصُوص ٹریش تک نہ پہنچ گئی اور پھِر ٹریش تک پہنچ کر اُس میں ڈال دیا ـ جی میں ٹھہرا وہی اپنی عادات کا دھنی بندہ اور میں سوچنے لگا کہ اگر میں یا میرے جیسا کوئی اور ہوتا تو ہم کیا کرتے ـ یقیناً میں یا وہ چھوڑ کر آگے نِکل جاتے جبکہ یہ ہم نے کتابوں میں پڑھا اور جانتے ہیں یہ حدیثِ مبارک ہے کہ ’’ صفائی نِصف ایمان ہے ‘‘ اب مُجھے عرصہ دراز پہلے کی باتیں بھی یاد آنی شُروع ہو گئیں ۱۹۸۸ میں سنگاپور جانے کا اتفاق ہُوا وہاں سڑک پر تھُوکنے، کاغذ یا کوئی چیز یعنی گندگی پھینکنے پر ایک ہزار ڈالر جُرمانہ تھا ـ ہانگ کانگ، لندن اور امریکہ میں بھی ’’ لِٹرِنگ اِز پروہیبیٹڈ ‘‘ پڑھا اور لوگوں کو عمل کرتے ہُوئے دیکھا اور جُرمانہ بھی ہے تو اپنا وطن اور لوگ یاد آئے ـ
میں زیادہ تر لوگوں کے مُنہ سے سُنتا ہوں اور پڑھتا ہوں کہ یہ سب اچھی باتیں ہماری ہیں غیر اقوام خصُوصاً مغرب نے چوری کر لی ہیں ـ میں سٹپٹا جاتا ہُوں جب اپنے مُلک کے لوگوں کو مُردہ جانورں کا گوشت یا گوشت میں پانی بھر کر بیچتے ہُوئے دیکھتا ہُوں سُنتا ہوں ـ مصالحہ جات میں مِلاوٹ کرتے ـ سُرخ مِرچوں میں اینٹیں کُوٹ کر مِلاتے ـ گندے آلُوؤں اورسبزیوں کے پکوڑے بناتے ـ مُردہ جانوروں کی چربی سے تیل بنا کر کھانے پینے کی چیزیں بناتے تلتے اور کھانے کےتیل کے ڈِبوں میں مِکس کرتے اور بھرتے ـ گندی اور مُضر چیزیں بیچتے ـ فروُٹ کی تھیلیاں بدلتے ـ بِجلی کے کُنڈے لگاتے ـ گیس کی چوری کرتے ـ مُضرِ صحت پانی کی بوتلیں بھرتے ـ گویا ذہنوں کی گندگی کہاں کہاں نہیں نظر آتی اور بھری ہُوئی ہے ـ کیا ہم گوری خاتُون کی طرح اپنی اپنی گندگی صاف کرنے کے علاوہ دوُسروں کی گندگی اُٹھانے کے لئے، صاف کرنے کے لئے تیار ہیں ـ
تو مُجھے پھِر یاد آیا کہ ابھی گُذشتہ کل ہی تو محمُود خان اچکزئی نے پوائنٹ آف آرڈر پر اِظہارِ خیال کرتے ہُوئے کہا کہ ’’ تمام ممبران نے آئین کے دفاع اور اِسے برقرار رکھنے کا حلف لیا ہے ـ ماضی میں بھی یہ حلف لیا گیا لیکن ایوان ایسے لوگوں سے بھرا پڑا ہے جِنہوں نے ماضی میں جرنیلوں کا ساتھ دیا اگر یہ صِرف الفاظ ادا کرتے ہیں تو اِس کا کُچھ بھی فائدہ نہیں ـ ہم خُدا کو گواہ بنا کر عہد کریں کہ آئندہ اگر آئین توڑا گیا اور اِسکی پامالی کی گئی تو ہم میں سے کوئی آئین توڑنے والے کا ساتھ نہیں دیگا ـ زیادہ تر لوگوں نے اِس بات کا عہد اور اعلان کیا کہ ماضی کے اِس کام کا اِعادہ نہیں کریں گے ـ ‘‘
تو مُحترم ممبرانِ گرامی ایک بات کا عہد اور فرما دیجیئے کہ اِس مُلک میں چاورں طرف پھیلی ہُوئی گندگی بمعہ اپنے اندر کی، اِرد گِرد کی، کرپشن کی، نا اِنصافی کی، ظُلم و تشدد کی، قول و فعل کی، تضادات کی، تصنع اور بناوٹ کی، جھُوٹی انا کی، لُوٹ مار دُور کرنے کی، یعنی ہر ہر طرح کی گندگی اِس وطنِ عزیز کے کونے کونے سے خُود اپنے ہاتھوں سے گوری خاتُون کی طرح صاف کریں گے ـ رسولِ پاکﷺ کے بتائے ہُوئے حُکموں اور اصُولوں کے مُطابق اپنی زِندگی سادگی سے گُزاریں گے ـ اُن کے یعنی آپﷺ کے لقب کی تقلید کرتے ہُوئے اپنے آپ کو صادق اور امین بنائیں گے ـ اپنے کندھوں پر ڈالی ہُوئی ذمہ داریوں کو تن دہی سے سر انجام دیں گے تو مُلکِ پاکستان کے لوگ یقیناً کُچھ بہتری کا سانس لینے کے قابل ہو جائیں گے ورنہ اب تک تو مُلک کی حالت دِن بدِن خراب ہی ہُوئی ہے ـ
ہمیں ایک نیا پاکستان نہیں بلکہ ایک بدلا ہُوا پاکستان چاہیئے ـ ایک پُر امن، ترقی یافتہ، کرپشن سے پاک، مذہبی روا داری رکھنے والا، اِنصاف کو فروغ دینے والا، تحمل اور برداشت رکھنے والے لوگوں کا پاکستان چاہیئے ـجھُوٹی شان و شوکت والے لوگوں کو زمین پر اُترنا ہوگا، غریبوں تنگ دستوں کی مدد کرنی ہوگی، فریادیوں کی فریاد سُننی ہوگی اور اُن کی داد رسی کرنی ہوگی ـ
آج ایک تاریخی دِن ہے کیوں کہ مُحترم نواز شریف آج تیسری بار مُنتخب ہو کر وزیرِ اعظم بننے جارہے ہیں ـ اُن کے کندھوں پربھاری ذمہ داریاں ہوں گی ـ اُنھیں مُلک کو ایک بار پھِر سے ترقی اور خوشحالی کی راہ پر ڈالنا ہوگا ـ اُنھیں کئی قِسم کے اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہوگا ـ دہشت گردی کے واقعات اور ڈرون حملے اُن کو کمزور کر سکتے ہیں ـ ہمیں اُن کی حکُومت کو مضبُوط کرنا ہوگا اور اُن کے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے اور بے جا تنقید سے بھی باز رہنا ہوگا ـ اِس کے ساتھ ساتھ ہماری یہ بھی خواہش ہے کہ وہ گوری خاتُون کی طرح جگہ بہ جگہ پڑی ماضی کی تمام گندگی کو اپنے ہاتھوں سے صاف کرنے کا کام سر انجام دیں کیوں کہ ’’ صفائی نِصف ایمان ہے ‘‘
سیمسن طارق
موڈیسٹو کیلیفورنیا

Advertisements