پنجاب کے وسطی ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ایک عدالت نے توہین سالت کے الزام میں ایک مسیحی نوجوان سجاد مسیح کو عمرقید اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
استغاثہ کے مطابق اس مسیحی نوجوان نے موبائل فون پر ایس ایم ایس کے ذریعے مذہبی توہین آمیز پیغامات مسلمان علمائے کرام اور دیگر افراد کو پہنچائے تھے۔
یہ پاکستان میں ایس ایم ایس کی بنیاد پر درج ہونے والا اپنی نوعیت کا توہین رسالت کا پہلا مقدمہ تھا۔
استغاثہ کے مطابق جس موبائل فون کے نمبر سے ایس ایم ایس بھیجے جا رہے تھے وہ ایک مسیحی لڑکی روما کا تھا جو خود بھی اس مقدمے میں نامزد ہے۔
پولیس نے اپنی تفتیش کے دوران یہ پتہ لگایا کہ یہ موبائل سم دراصل سجاد مسیح کے زیر استعمال ہے اور روما مسیح نے چونکہ اس سے شادی سے انکار کر دیا تھا اس لیے وہ اسے پھنسانے کے لیے اس کے موبائل نمبر سے توہین آمیز پیغامات بھیج رہا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے موبائل فون کا کنکشن (سم کارڈ) خود ہی روما کے نام سے حاصل کیا تھا۔
یہ مسیحی نوجوان پاکپتن کا رہائشی ہے اور ڈیڑھ سال پہلے پولیس نے اسے گرفتار کر لیا تھا۔ ملزم کے خلاف جیل میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔
سنیچر کو ایڈیشنل سیشن جج نے جیل میں ہی اسے قید اور جرمانے کی سزا سنائی۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ملزم کو مزید چھ ماہ قید کاٹنا ہوگی۔
روما مسیح مقدمہ کےاندراج کے بعد سے اپنے اہلخانہ سمیت روپوش ہو چکی ہے۔
پاکستان میں توہین رسالت کے سب سے زیادہ مقدمات پنجاب میں درج کیے جاتے ہیں اور اس قانون کے تحت موت تک کی سزا دی جاسکتی ہے۔
لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق پاکستان کی ماتحت عدالتوں سے توہین رسالت پر ملنے والی موت کی تقریباً تمام سزاؤں کو اعلی عدلیہ نے کالعدم قرار دیا ہے لیکن عدالتی کارروائی کے دوران توہین رسالت کے متعدد ملزمان ہلاک کیے جا چکے ہیں۔
انسانی حقوق کی بعض تنظیموں کا کہنا ہے کہ توہین رسالت کے قانون کا عموماً غلط استعمال بھی کیا جاتا ہے اور ذاتی دشمنی کی بنیاد پر جھوٹے مقدمات بھی قائم کیے جاتے ہیں۔

Advertisements