امریکہ کے مذاہب کی آزادی کے بارے میں کمیشن نے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں پر حملوں اور تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ نومنتخب حکومت اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔
کمیشن کے مطابق گزشتہ اٹھارہ ماہ میں فرقہ وارانہ تشدد کے دو سو تین واقعات پیش آئے جن میں سات سو افراد ہلاک اور گیارہ سو زخمی ہوئے، ان حملوں میں دہشت گرد تنظیموں نے بلخصوص شیعہ برادری کو نشانہ بنایا اور کچھ حملے مقدس مہینوں میں بھی کیے گئے۔
جنوری 2012 سے جون 2013 کے اعداد و شمار کے مطابق مذہبی اقلیتوں پر 203 حملے ہوئے، جن میں سے 77 حملے شعیہ،37 عیسائی، 54 احمدی، 16 ہندو، 3 سکھ اور سولہ حملے دیگر مذہبی گروہوں پر کیے گئے۔
ان حملوں میں چھ سو پینتیس شعیہ ، گیارہ عیسائی، بائیس احمدی، دو ہندؤ، ایک سکھ اور چھیالیس دیگر مذہبی گروہوں کے لوگ ہلاک ہوئے۔
کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مذہبی اقلیتوں کو بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، بم دھماکوں کے پچیس اور فائرنگ کے تیراسی واقعات پیش آئے اس کے علاوہ پانچ عیسائی لڑکیوں اور سات ہندؤ لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کمیشن کا کہنا ہے کہ شعیہ برادری زیادہ خطرے سے دوچار ہے جن پر خودکش بم حملے اور فائرنگ کی جاتی ہے، پہلے ہی مذہبی آزادی سے محروم عیسائی، احمدی اور ہندؤ برادری کی صورتحال حالیہ حملوں کے بعد مزید بگڑ گئی ہے۔
کمیشن کے مطابق حقائق خوفناک اور مشکل صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں تاہم اس میں ایک مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔
’نومنتخب وزیراعظم نواز شریف نے قومی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں اقلیتوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا، اس کے علاوہ بم دھماکے کے بعد انہوں نے کوئٹہ کا دورہ کیا اور حکومت کو اقدامات کی ہدایت کی‘۔
کمیشن نے مطالبہ کیا کہ پرتشدد واقعات میں ملوث ملزمان کوگرفتار کرکے مقدمے چلائے جائیں اور انہیں سزا سنائی جائے۔
’مذہبی اقلیتوں پر حملوں میں کالعدم تنظیمیں اور گروہ ملوث ہیں لیکن حکومتی ادارے بھی اس سے بری نہیں، پولیس افسران حملوں پر چشم پوشی اختیار کرتے ہیں اور واقعات کا مقدمہ درج کرنے سے انکار کرتے ہیں‘۔
کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، پشاور، مستونگ، ڈیرہ اسماعیل خان، پارہ چنار، مانسہرہ، ہنگو، چکوال اور چیلاس میں پیش آئے ہیں۔

Advertisements