اکستانی مسیحی دُنیا کی مثا لی اقلیت

(روت رُخسانہ)
پاکِستانی مسِیحی قوم کو بجا طور پر دُنیا کی اِمثالی اقلیت قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ بات کہہ دینے سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ پاکِستان کی تعمیروترقی اوراستحکام کے لئے جو کِردار پاکِستان کے مسِیحوں کا رہا ہے دُنیا میں اِسکی اِمثال کہیں نہیں مِلتی۔ پاکَستان کو دُنیا میں بہتر مقام دلوانے، اِس کا بہتر امیج بنانے اور اِسے امن وامان کا گہوارہ بنانے میں مسِیحوں نے ہمیشہ اپنا موثر حِصہ ڈالا۔ پاکِستان میں امن وامان کے قیام کو یقینی بنانے کے لئے یہاںکے مسِیحوں کی قُرنانیاں لازوال ہیں۔ یہ المیہ ہے کہ اِنکی قُربانیوں کو نا سراہا جاتا ہے نا سامنے لایاجاتاہے اور نا ہی اِنکی قدَر کی جاتی ہے ۔ بحرحال اِس مُلک کو عظیم سے عظیم تر بنانے کا خُواب ہرپاکِستانی مسِیحی اپنی آنکھوُں میں سجاے قُربانیوں کی لازوال داستان رقم کیے جا رہا ہے۔
ھم مسِیحی، پاکِستانی قوم کہلوانا اپنے لئے زیادہ قابلِ عزت سَمجھتے ہیں یہ اور بات ھے کہ بہت سارے پاکستانیوں کے لئے پاکِستانی سے مُراد صِرف یہاں کے مُسلم بھائی بہن ہی نہیں ھوتے ہیں۔ یہ تعصب ہم محب الوطن مسِحیوں کے لئے تکلیف دہضرورھوتا ہے تا ہم نا کوئی اِحتجاج ہے نا کوئی آواز اُٹھاتا ہے۔ اِس لئے کہ ہم مسِیحی اقلیت ہیں۔ میرا یہ مطلب ہرگِز نہیں کہ دُنیا میں کہیں کِسی اور مُلک میں وہاں کی اقلیتوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ نہیں رکھا جاتا۔ ہم مانتے ہیں کہ کئ ممالک ایسے بھی ہیں جہاں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک برتا جاتا ہے۔ ہم دُور کیوں جائیں اپنے پڑوسی مُلک ہِندوستان کی ہی مثال لے لیتے ہیں۔ جہاں مُسلم اقلیت کے ساتھ تعصبانہ رویہ رکھاجاتاہے۔ ہِندوستان کی اقلیتیں اِس پر احتجاج کرتی ہیں، سڑکُوں پر ٹائر جلائے جاتے ہیں سرکاری املاک کو نقصان بھی پُنچایا جاتا ہے-
ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ پاکِستان کی 65 سالہ تاریخ میں آپکو کہیں سے ایک بھی ایسا واقعہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں مِلیگا جب پاکِستان کے مسِیحی حقوق کے تخفظ کے لئے کبھی بھی امن وامان کی صورتِ حال کو بگاڑنے کا تصور بھی اپنے زہین میں لائے ھُوں۔ میں پاکِستان کے مسیحیوں
کو دُنیا کی مثالی اقلیت کیوں کہتی ھُوں؟ جو موازنہ اَب میں آپکے سامنے پیش کرنے جارہی ھُوں بِلاشُبہ وہ بُہت سے قائرین کو سمجھنے میں مدد ضرور دیگا۔ ایک وقت تھا جب وطنِ عزیز پاکِستان ابھی معرض وجود میں نہیں آیا تھا برِصضیر پاک و ہند میں ہِندو قوم اکثریت میں ھونے کے ناطے اُنکے قوانین بھی بلِاشُبہ اِمتیازی تھے۔ اِنہیں قوانین میں سے ایک قانُون ایسا جاری ھوا جس کی رُو سے اسکولُوں میں بندِ ماترم کا ترانہ پڑھنا ہر طالِب علِم کے لئے لازمی قرار دیا گیا۔ یہ بھی سچ ہے کہ اسکولُوں میں موجود طالِب عِلم 70 فیصد ہِندُو یا سکھ مسلک سے تعلق رکھتے تھے اور 30 فیصد طالِب عِلم مُسلمان تھے۔ تاریخِ پاکِستان اِس قانُون کو بجا طور پر ظالمانہ قرار دیتی ہے۔ اِس قانُون کے نتِجے میں مُسلمانُوں نے اپنے بَچُوں کو اسکُولُوں سے اُٹھا لیا۔ اِحتجاجی ریلیاں نکالی گئیں، سرکاری املاک کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ الغرض ہر وہ کام کیا گیا جس سے قانُون بدلوایا جا سکے۔
پھر وہ وقت آیا جب پاکستان آزاد ھُوا اور مُسلمانُوں نے اپنا حقِ رائے دہی پاکستان کے حق میں اِستمعال کیا۔ اُس وقت پنجاب اسمبلی کے اسپیکر جو کہ ایک مسِحی تھے اگر وہ اپنا فیصلہ کُن ووٹ پاکستان کے حق میں نا دیتے تو آج صُورتِ حال کُچھ اور ھوتی۔
وقت گُزرتا گیا 80 کی دہائی میں سربراہِ پاکستان نے بھی ایک ایسا قانُون جاری کیا جس کے مطابق ہر طالِب علِم کو خواہ اُس کا تعلق کِسی بھی مزھب سے ھو گریجویشن تک اِسلامیات پڑھنا لازمی قراردیا گیا۔ اس کو پڑھنے اور اِمتحان میں پاس کئے بغیر کوئی بھی طالِب عِلم اگلی جماعت میں بیٹھ نہیں سکتا تھا۔ سوچنے کی بات ہے کہاں ایک چند اشعار پر مبنی ترانہ ظُلم کی اِنتہا تھا یا پھر اِسلامیات کو ہر مسِیحی، ہِندُو، سکھ اور پارسی طالِب علِم کے لئے لازمی قرار دینا کیا تھا؟۔
لیکن یہاں کیا ھوا نہ تو کسی مسِیحی خاندان نے اپنے بچے کو اسکول سے اُٹھایا نہ ہی کوئی احتجاجی ریلی نکالی گئی نہ ہی سڑکُوں پر ٹائر جلائے گے اور نہ ہی سرکاری عمارتُوں کو نُقصان پُنچایا گیا۔ اسکے برعکس مسِیحی طالِب علِمُوں نے نہ صِرف اِسلامیات کو شوق سے پڑھا بلکہ اِس مضمُون کو ہمیشہ اِمتیازی نمبروں سے پاس بھی کیا۔ اسکی وجہ کیا تھی؟ میرے مُعزز قائریں! اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ پاکستانی مسِیحی حقیقت میں ایک مثالی اقلیت ہیں۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ دیگر مزاھب کا علِم نقصان نہیں دیتا بلکہ اس سے زیہن کو وُسعت مِلی ہے۔ عِلم کبھی نُقصان دہ نہیں ھوتا۔ ھمارے لئے کسی بھی چیز کا دُھرا معیار نہیں ہے۔ جہاں ہم جانتے کہ شانتی نگر، گوجرہ اور بادامی باغ جیسی پُوری کی پُورئ کرسچن کولُونی گِرجا گھروں سمیت ہزاروں کی تعداد میں مُقدس بائبلُوں کو جلا دینا ظُلم ہے وَہیں ایران، عراق جانے والی بسُوں میں سوار معصُوم زائرین پر تشدد، انسانیت سوز ہلاکتیں اور کراچی میں عباس ٹاؤن جیسا سانحہ بھی ظُلم ہے۔ ہمارے نزدیک ظُلم صرف ظُلم ہے چاہے وہ کسی کے ساتھ بھی ھو۔ ہم مثالی اقلیت ہیں اس لئے کہ دھرتی ماں کا تقدس ہمارے لئے ہمیں اپنی جان سے عزیز ہے۔ ہم مثالی اقلیت اس لئے ہیں کیونکہ ہمیں پاکستان کی سلامتی عزیز تر ہے۔ ہم ظُلم سہتے ہیں مگر احتجاجی ہنگامے، پُرتشدد کاروائیاں اس لِئے نہیں کرتے کہ عرضِ وطن کی شان ہمیں زِندگی سے عزیز ہے۔ ہم پر اس وطن کی مِٹی کا رنگ چڑھا ہے، ہم دُنیا میں کہیں بھی چلے جائیں، دُوسرے ممالک شہریت بھی حاصل کرلیں۔ گرین کارڈ لے لیں، ہمارا پاسپورٹ بدل جائے پر ہمارا رنگ نہیں بدلتا اس لئے کہ ہم پے اس عرٍض وطن کی سوہنی مِٹی کا سانوَلہ رنگ چڑھا ہے۔ وطن سے مُحبت کا یہی جزبہ ہمیں مثالی اقلیت کے درجے تک لِئے جاتا ہے۔ وطن سے مُحبت کا یہی جزبہ ہے جس نے پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن سِسل چوھدری نے 1965 کی پاک بھارت جنگ میں دفاع وطن کا ایسا رزم دے دیا جس سے پاکستان کا فضائی دفاع ممکِن ھوسکا۔ وطن سے یہی اُلفت تھی جس نے شہید میجر سرمس راؤف کو مُلک کی زمینی سرحدُوں کا دفاع کرتے ھوئے اپنی جان کا نزرانہ دینے کا حوصلہ بخشا۔ اس سرزمین سے مُحبت کا جزبہ ھی ہے جس میرے والد صُوبیدار(ر) لال مسِیح نے اپنی زندگی کے قیمتی 32سال پاک فوج کے نام کئے ۔ دَھرتی ماں سے عقیدت کا یہی جزبہ ہمیں دُنیا کی دیگر اقلیتُوں سے ممتاز کرتا ہے۔ پاک وطن کی 65 سالہ تاریخ ہم نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان ہمارا سب کُچھ ہے اِسکی سلامتی ، ترقی، خُوشحالی میں حِصہ ڈالتے آئے ہیں اور ڈالتے چلے جائیں گے۔
کیونکہ ہم واقعی ہی دُنیا کی مثالی اقلیت ہیں۔

Advertisements