اَبھی اِس ظُلم کے کوَڑے کو مَت رَوکو میرے کُچھ جُرم باقی ہیں اِسے یُونہی بَرسنے دو،

نیئ اِک فردِجُرم روز مُجھ پے عائد ہوتی ہے فہرِست میرے گُناہُوں کی نجانے کِتنی لَمبی ہے۔
میرا یہ جُرم کیا کم ہے کہ میں نے آنکھ اِس دھرتی پے کھولی ہے
میرا یہ جُرم ہے کہ میں اَقلیت کا حِصّہ ہُوں،
میرا یہ جُرم ہی تَو ہے کہ اَکثریت نہیں ہُوں میں۔۔۔ ہاں تُم حق بجانب ہو
میں مُجرم ہُوں اِس ظُلم کے کوَڑے کو مَت رَوکو اِسے یُونہی بَرسنے دو میرے کُچھ جُرم باقی ہیں

، اَمن کی خواہش میرا جُرم نئی اُڑان میرا جُرم، وطن سے اُلفت میرا جُرم، ترقی کے خُواب میرا جُرم ، صُبحِ نَو کی اُمید میرا جُرم ، دَھرتی سے ناتا میرا جُرم ، چمّن سے مُحبت میرا جُرم ، پہچاکی خواہش میرا جُرم

، ہاں تُم حق بجانب ہو۔ ۔ میں مُجرم ہُوں اِس ظُلم کے کوَڑے کو مَت رَوکو، .. اِسے یُونہی بَرسنے دو میرے کُچھ جُرم باقی ہیں۔۔

رُوت رُخسانہ

Advertisements