یہ انڈر کور کا حالیہ پروگرام رمضان میں جسم فورشی . دیکھ کر حیرت ہوئی اس انڈر کور کی ٹیم کے اندھے پن پر .. کیا کوئی مجھے یہاں اس اخلاق اور تہذیب کی تعریف بتائے گا ؟ غریبوں کی بستیوں میں چھاپا مار کر آخر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں یہ زرد صحافت کے علمبردار ؟ کیا انہیں نہیں معلوم کہ یہ بھوک یہ مفلسی اس نام و نہاد اخلاق اور تہذیب کے سبھی نشیمن جلا ڈالتی ہے …. کیا رمضان کے مہینے میں سبھی مجبوریاں ختم ہو جاتی ہیں انسان کا پیٹ اسکے جسم سے الگ ہو جاتا ہے ؟ یا پھر یہ مذھبی خدا ہی آسمان سے اتر کر آ جاتا ہے غریبوں ناداروں کی دیکھ بھال کے لئے ؟ اگر مذہب کی اتنی فکر ہے تو پہلے بھوک ختم کیجئے … اس اسلامی قلعے کو آگ لگا کر ایک انسانی قلعہ بنائیے .. اور پھر جیسا چاہے اس اخلاق و تہذیب کا پرچار کیجئے ….. جس کے پیٹ میں روٹی ہی نہ ہو وہ خدا کو کیا خاک یاد کریگا گیارہ مہینے فاقوں سے نڈھال جبری رمضان منانے والے اس ایک مہینہ کا کیونکر احترام کر پائیں گے ؟
میڈیا کا ایسی سطحی سوچ اپنا کر غریبوں کی بستیوں میں یوں دندناتے پھرنا میرے نزدیک انتہائی قابل مذمت فعل ہے ….میں جسم فروشی کے حق میں ہرگز نہیں اگر کوئی یورپ اور امریکہ میں ایسا کرے تو یقینا میں اسے قابل مذمت سمجھتی ہوں کیوں کہ وہاں ایسا کرنا عورت کی مجبوری نہیں آسان پیسہ کمانے کی حرص کہلاتی ہے جو میرے نزدیک غیر اخلاقی ہے .. مگر پاکستان جیسے غریب ممالک میں جہاں عورت کا کوئی وجود ہی نہیں وہاں ان پر ایسی قانونی چڑھائی کرنا سراسر زیادتی ہے .. اگر انہیں اخلاق و تہذیب کی اتنی ہی پرواہ ہے تو باقی سال نہ سہی کم سے کم رمضان کے مہینے میں ہی غریبوں کے لئے ویل فیئر کا نظام قائم کروا دیں پھر چاہے اپنی یہ حرکتیں ایسے ہی جاری رکھیں ؟ ورنہ پھر یہ بتا دیں کہ کیا یہ جسم فروشی کا دھندہ ایوان صدر میں نہیں ہوتا کیا یہ حرکتیں ماہ رمضان میں رائیونڈ کے محلوں میں بین کر دی جاتی ہیں یا آپکے اسلامی قبلہ و کعبہ سعو دی عرب اور دوسرے برادر اسلامی ممالک میں رمضان کے احترم میں پاکستانی عورتوں کی اسمگلنگ روک دی جاتی ہے ؟…. عفاف اظہر

Advertisements