واٹسن گل

ایمسٹرڈیم :14 Aug 2013

کیا یورپ میں پاکستانی مسیحی پناہ گزین کی مدد کے نام پر دکانداری کی جا رہی ہے؟۔

گُزشتہ رات گلوری ٹی وی کے مقبول پروگرام عوام شو میں بیلجیم سے ایک پاکستانی مسیحی نے فون کیا اور پروگرام کے اینکر بھائ تسکین کو شکایت کی کہ بلکہ انسانی حقوق کے حوالے سے جانی پہچانی پاکستانی مسیحی شخصیت کا نام بھی لیا اور الزام لگایا کہ چند ماہ قبل بیلجئم کے شہر برسلز میں یوروپئین یونین کے سامنے مسیحی پناہ گزین کے حقوق کے لیے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اور مبینہ طور پر دعواہ کیا گیا کہ اب پاکستانی مسیحی اگر اپنے اپ کو مسیحی ثابت کریں گے تو ان کی پناہ کی درخواست قبول کر لی جائے گی۔ فون کرنے والے شخص نے سنگین الزام لگایا کہ مسیحی پناہ گزین سے ایک درخواست کے لیے فی کس چار سو یورو طلب کئے جا رہے ہیں۔

یہ الزامات نہایت سنگین ہیں۔ میں زاتی طور پر انسانی حقوق سے تلعق رکھنے والی اس مسیحی شخصیت کی خدمات کی قدر کرتا ہوں اور ان کا دل سے احترام کرتا ہوں۔ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ زاتی طور پر اس میں ملوث نہ ہوں بلکہ کوئ اور ان کے نام کا فائدہ اٹھا رہا ہو۔ مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس سوال کا جواب ضرور لیا جانا چایے۔ میں ان کی ٹیم کے میمرز سے درخواست کرونگا کہ وہ اپنے طور پر تحقیق کریں اور سچائ سامنے لاییں۔

میں ایک بار پھر آپ کو یاد دلا دوں کہ پاکستانی مسیحی پناہ گزین کے لیے سب سے پہلی آواز ہماری ٹیم نے اٹھائ ہے، اور عملی طور پر مسیحی پناہ گزین کے جو اقدامات نیدرلینڈز کے پاکستانی مسحیوں نے کیے، شاید ہی کسی اور نے لیے ہوں۔ ہماری مسیحی پناہ گزین کے حوالے سے جدوجہد بغیر کسی زاتی مفاد کے شروع ہوئ اور ڈچ میڈیا میں ہماری جدوجہد کو پزریائ بھی ملی۔

ڈچ پارلیمٹیرین جناب جویئل فوردوینڈ کا کردار اس تحریک میں مرکزی رہا، وہ پاکستان پہنچے، پاکستانی مسیحیوں کے مخدوش حالات کا قریب سے مشاہدہ کیا اور پھر ہماری کمیونیٹی کے ایک وفد سے ملاقات کی، ہماری پٹیشن کو اپنی رپورٹ کا حصہ بنا کر پارلیمنٹ میں پیش کیا ۔ ہمیں اس تحریک کے مثبت نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔

ہماری مسیحی پناہ گزین کے حوالے سے جدوجہد کے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے آپ Oct 2002 کے اس ڈچ اخبار کو دیکھ سکتے ہیں۔ جس میں ایک مسیحی خاندان کو ڈیپورٹ کرنے کے خلاف آواز اٹھائ گئ۔ اور ڈچ حکومت کو مسیحی کے ساتھ پاکستان میں شرمناک سلوک پر آگاہی دی گئ۔
http://www.digibron.nl/search/detail/012dcd15f611e6fd3bbb0c4b/terugkeer-is-levensgevaarlijk/5

Advertisements