گُزشتہ روز میں ایک خبرپوسٹ کی تھی۔ جو کہ گلوری ٹی وی کے ایک معروف پروگرام عوام شو سے متلق تھی۔ اس پروگرام کو مشہور اور معروف شخصیت جناب تسکین خان صاحب ہوسٹ کرتے ہیں۔ یہ خبر پاکستانی مسیحی پناہ گزین کی مدد کے نام پر دکانداری کے حوالے سے تھی۔ عوام شو میں بیلجیئم سے ایک مسیحی بھائ نے فون کیا تھا اور فون کرنے والے شخص نے سنگین الزام لگایا کہ مسیحی پناہ گزین سے ایک درخواست کے لیے فی کس چار سو یورو طلب کئے جا رہے ہیں۔

مجھے اس خبر کے حوالے سے بہت سے برقی خطوط اور فون موصول ہوئے ، جن میں ملا جلُا رد عمل پایا گیا ۔ گُزشتہ رات مجھے انسانی حقوق کی معروف تنظیم کلاس کے بیلجئم کے کورڈینیٹر اور جانی پہچانی سیاسی اور سماجی شخصیت جناب لطیف بھٹی صاحب کا فون آیا۔ فون پر بھٹی صاحب نے کُچھ غصہ اور ناراضگی کا اظہار کیا اور ان کی آواز میں مجھے اپنایت بھی محسوس ہوئ۔ میں جناب لطیف بھٹی صاحب کی خدمات اور مسیحی کمیونیٹی سے محبت کا میں قائل ہوں اور ان کی عزت کرتا ہوں۔ اس لیے ان کا موقف بھی نہایت ضروری ہے۔

لطیف بھٹی صاحب فرماتے ہیں کہ چار سو یورو اگر پاکستانی مسیحی پناہ گزین سے وصول کیے جاتے ہیں تو وہ ان پر ہی خرچ کیے جاتی ہیں۔ کیونکے مسیحی پناہ گزین کی انویسٹیگیشن کے لیے یہ پیسے خرچ ہوتے ہیں، اس کے علاوہ کلاس تنظیم دوسو مسیحی خاندانوں کے لیے لاہور میں دو شیلٹر ہوم بھی چلا رہی ہے۔ اور وہ مسیحی جو مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں ان کو اخلاقی، مالی اور قانونی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ ان پیسوں سے وکیلوں کو فیس بھی جاتی ہے۔ اور تنظیمی امور کو چلانے کے لیے فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے۔

میں نے جناب لطیف بھٹی صاحب کا موقف جیسے انہوں نے فرمایا ،پوسٹ کر دیا اب بھی اگر اس حوالے سے کوئ پیشرفت ہوق ہے یاکوئ بھی موقف سامنے آتا ہے تو یہ فورم سب کے لیے حاضر ہے۔

Advertisements