واٹسن گل
ایمسٹرڈیم :

پاکستان میں انصاف کے نام پر شرمناک فیصلوں نے مسیحی کمیونیٹی کے زخموں پر نمک پاشی کی گئ۔ ایک ہفتہ میں پاکستانی انصاف اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسیحی دُشمنی کھُل کر سامنے آگئ۔

چند روز قبل قصور کے علاقے پھول نگر (بھائ پھرو) ایک شہیہ فرقے سے تلعق رکھنے والی مسجد کے مدرسے میں قران کے چند اوراق جلے ہوئے پائے گیے۔ یہ بات جنگل کی آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل گئ۔ پولیس کے اعلی حُکام موقع پر پہنچ گیے۔ ایک ایمجنسی کمیٹی تشکیل دی گئ۔ جس میں سُنی، شیہہ، دیوبندی ،وہابی اور دوسرے مسالک کے علُما کو شامل کیا گیا۔ اور فیصلہ یہ ہوا کہ مدرسے کے لڑکے کم عمر ہیں لہذا اس مسلئے کو دبا دیا جایے۔ اس واقعے سے میڈیا کو بھی دور رکھا گیا۔ پولیس نے نہایت مہارت سے اس مسلئے کو حل کر لیا۔ میرا یہ سوال کہ یہ مہارت اور پُھرتیا شانتی نگر، سانگلہ ہل، تحسیر ٹاون، سمڑیال، گوجرہ، جوزف کالونی وغیرہ میں کیوں نہی دکھائ دیں۔

اس کے علاوہ ایک اور شرمناک نا انصافی پاکستانی عدالت کے حوالے سے سامنے آئ۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ایک ضلعی عدالت نے ایک مسیحی لڑکی پر توہین مذہب کا الزام لگانے والے ایک مقامی مسجد کے پیش امام کو اس مقدمے سے بری کر دیا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ ملزم خالد جدون کے خلاف کوئی شواہد نہیں ملے جس کی بنا پر اس مقدمے کو چلایا جا سکتا ہے۔
مقامی مسجد کے پیش امام خالد جدون کے وکیل واجد گیلانی نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ اُنہوں نے اپنے موکل کی بریت کی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ اس کا کوئی چشم دید گواہ نہیں ہے۔ اور یہ کہ خالد جدون نے قران پر ہاتھ رکھ کر حلف دیا کہ اس نے کوئ بے حرمتی نہی کی۔

میرا سوال یہ ہے کہ خالد جدون کی اپنی مسجد کے نائب امام نے جیو ٹی وی کو انٹرویو دیا اور ساری دنیا نے سنا کہ خالد جدون نے قران کے اوراق پھاڑ کر اس میں شامل کیے۔ جھوٹی گواہی پر نائب امام کو گرفتار کیوں نہی کیا گیا۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ کونسا انصاف ہے کہ ثبوت موجود تھا آخر کسی نے تو قُران کے اوراق جلایے تھے تو محض قران پر حلف لے کر مُلزم کو بری کر دیا گیا، اور دوسری جانب آسیہ بی بی کے کیس میں کوئ ثبوت موجود نہی ایک مُسلمان نے محض کہنے پر آسیہ بی بی کی زندگی جہنم بنا دی گئ۔ پاکستان میں اگر انصاف ہے تو یہ حق آسیہ بی بی کو بھی دیا جایے کہ وہ اگر بائبل مقدس پر ہاتھ رکھ کر بیان دے کہ اس نے رسول اسلام کی شان میں کوئ گُستاخی نہی کی تو اسے بھی رہا کیا جایے۔
اب خالد جدون کی رہائ کے بعد علاقے کے رہے سہے مسیحی اور بھی خوفزدہ ہو جایینگے۔ اور علاقہ چھوڑ کر در بدر ہو جایینگے۔ اس واقعے کے بعد اس گاؤں سے چھ سو افراد نقل مکانی کر کے اپنے رشتہ داروں کی طرف چلے گئے تھے۔

Advertisements