کیا کراچی میں ہونے والا آپریشن منصفانہ ہوگا، یا پھر ایم کیو ایم کے خلاف جناح پور کہ بعد مہاجر رپبلکن آرمی جیسے جھوٹے پروپگینڈہ کی آبیاری کی جایے گی۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائ حکومت کو اس کراچی آپریشن کی کمانڈ اینڈ کنٹرول دینے کا فیصلہ سراسر غلط ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ کراچی میں ایم کیو ایم پچاسی فیصد سے زیادہ مینڈیٹ رکھتی ہے۔ دوسرا کراچی میں سب سے زیادہ خونریزی لیاری، چاکیواڑہ، پٹیل پاڑہ جیسے علاقوں میں ہے اور مینڈیٹ کے مطابق یہ علاقے پیپلزپارٹی کے ہیں اور پیپلز پارٹی یہ مانتی ہی نہی کہ ان علاقوں میں حالات دوسرے علاقوں کی بہ نسبت زیادہ خراب ہیں۔ کراچی کا بچہ بھی جانتا ہے کہ مزکورہ علاقوں میں مختلف گروپس نے اپنی حکومت قایم کر رکھی ہے۔ جن میں طالبان بھی ہیں اور بلوچ علیدگی پسند قوعتیں میں موجود ہیں اور ان کو پیپلز امن کمیٹی کی سپورٹ حاصل ہے۔ اس میں کوئ شک نہی کہ ایم کیو ایم میں بھی شر پسند عناصر موجود ہونگے، مگر ہم نی کبھی نہی دیکھا کہ گُزشتہ پچیس سالوں میں پولیس یا رینجر کو ایم کیو ایم کے علاقوں میں آپریشن کے دوران اتنی سخت مزاہمت کا سامنا ہوا ہو جتنا کہ چند ماہ پہلے لیاری آپریشن میں ہوا۔ آج بھی پولیس اور رینجر ان علاقوں میں نہی گُھس سکتی۔

مجھے سمجھ نہی آتی کہ کراچی کے معاملے میں ہر سطع پر برابری کی بات کی جاتی ہے، جبکہ مینڈیٹ کے مطابق کراچی میں کوئ بھی جماعت ایم کیو ایم کے برابر نہی ہے۔ مگر پھر بھی چایے میڈیا ہو یا سیاسی اور مزیبی جماعتیں کراچی کے حوالے سے برابری پر بات کرتی ہیں۔ حیرت ہے کہ محض پندرہ فیصد مینڈٹ رکھنے والی دس جماعتیں کراچی پر اپنا حق جتاتی ہیں اور پچاسی فیصد والی جماعت کو قابض کہتی ہیں۔ اور تو اور ہمارا میڈیا بھی کبھی جماعت اسلامی سے کبھی اے این پی یا کبھی پی پی کے نماعندوں سے ایم کیو ایم کو گالیاں سنوا رہے ہوتے ہیں۔

مجھے سمجھ نہی آتی کہ ہمارے سیاسی، مزہبی لیڈرز دانشور، مفکر میڈیا کے نام نہاد اینکرز سب طالبان سے سمجھوتے کی بات کرتے ہیں ۔ بلوچ علیحدگی پسند لیڈرز جو کھُل کر پاکستان کو گالی دیتے ہیں ان کی چمچہ گیری کرتے ہیں۔ مگر ایم کیو ایم کے حوالے سے ان سب کا موقف بہت سخت ہے۔ وہ جماعت جو پاکستان کی سالمیت اور استحکام کی بات کرتی ہے اسے دیوار سے لگانے کی کوشش کیوں۔ کیا تاریخ اپنے آپ کو دھرایے گی۔ کیا ہم تاریخ سے سبق نہی سیکھیں گے؟۔ مشرقی پاکستان میں بھی تو یہ ہی ہوا تھا۔ کماؤ صوبے کے ساتھ نفرت برتی گئ۔ شیخ مجیب الرحمان کا ایک مینڈیٹ مغربی پاکستان کی بیس جماعتوں کے مینڈیٹ پر بھاری تھا تب بھی اسے تسلیم نہی کیا گیا اور ہم آج بھی اپنی اُس غلطی پر شرمسار نہی۔ بلکہ حمودالرحمان کمیشن کو بھی سامنے نہی آنے دیا گیا ۔

مجھے سمجھ نہی آتی کہ ایک طرف تمام مزہبی اور سیاسی جماعتیں کراچی میں ہونے والی دہشت گردی، بھتہ مافیا، اغواہ برائے تاوان کا قصور وار ایم کیو ایم کو ٹھراتی ہیں اور وجہ یہ بتاتی ہیں کہ کیونکہ ایم کیو ایم کراچی میں سب سے بڑی جماعت ہے۔ مگر جب کراچی میں وزارتوں اور بیوروکریسی میں حصے کی بات آتی ہے تو وہ پارٹیاں بھی حصہ مانگتی ہیں جن کا کراچی میں صفر مینڈیٹ بھی نہی ہے۔ کراچی میں آپریشن کی بات ہو رہی ہو اور ایم کیو ایم کے بجایے ان پارٹیوں سے مشورے جن کی کراچی میں ایک بھی سیٹ نہی یہ زیادتی نہی تو کیا ہے۔

مجھے سمجھ نہی آتی کہ پنجاب میں پنجابی پولیس، بلوچیستان میں بلوچی پختون خواہ میں پٹھان اندورن سندھ میں سندھی پولیس ہے، تو اگر کراچی میں ایک کروڑ سے زیادہ اردو بولنے والوں کی قوم کے نوجوان پولیس میں ہو تو سیاسی وابستگی کا الزام یہ کونسا انصاف ہے۔ کراچی میں جرائم کی زمہداری کا الزام تو ایم کیو ایم پر مگر ان جرائم کو ختم کنے کے لیے اگر وہ اختیارات مانگے تو سیاسی وابستگی یہ منطق مجھے سمجھ نہی آتی۔

Advertisements