اسلام آبادپالیٹکس رپورٹ ۔۔۔ اسلام آباد پولیس نے سابق وفاقی وزیرشہباز بھٹی کے قتل سمیت دہشتگردی کی درجنوں وارداتوں میں ملوث آٹھ رکنی گروہ کو گرفتار کرلیا ہے۔نجی ٹی وی چینل نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وفاقی پولیس نے حساس اداروں کی اطلاعات پر اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردی کی درجنوں وارداتوں میں آٹھ رکنی گروہ کو گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتار ملزمان سابق وفاقی وزیرشہباز بھٹی کے قتل میں بھی ملوث ہیں۔ ذرائع کے مطابق، سملی ڈیم اور ترنول کے واقعات میں یہی گروہ ملوث ہے۔ گذشتہ دنوں سملی اور ترنول سے گولہ بارود پکڑا گیا تھا۔ ڈنمارک ایمبیسی اور ریسٹورنٹ کو نشانے بنانے میں اسی گروہ کے ملوث ہونے کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ حساس ادارے نے رپورٹ وزارت داخلہ کو بھجوا دی ہے۔شہباز بھٹی سو دو مارچ دوہزار گیارہ کو اسلام آباد میں انکی رہائش گاہ کے قریب گاڑی پر فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا جبکہ قاتلوں نے جائے وقوع پر جو پمفلٹ پھینکے تھے ان کے مطابق مبینہ طور پر تحریک طالبان نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی ۔شہبا ز بھٹی کا تعلق کرسچئین لبریشن فرنٹ سے تھا جو سابق پیپلزپارٹی کے دور میں پیپلزپارٹی کی اتحادی تھی ۔شہباز بھٹی آل پاکستان مینارٹی الائنس کے بھی رہنما تھے اور وہ توہین رسالت قانون میں ترمیم کے داعی تھے۔قتل سے چارماہ قبل شہباز بھٹی نے اپنے ایک بیان میں القاعدہ اور طالبان کیطرف سے انہیں قتل کئے جانے کے خطرے کا عندیہ دیا تھا۔

Advertisements