کون بے حِس نہیں ؟ کیا مَیں بے حِس نہیں ؟ آپ بے حِس نہیں ؟ ہمارے اِرد گِرد رہنے والے لوگ بے حِسس نہیں ؟ نہیں ! ہمارے مُعاشرے میں دسیوں نہیں ، بیسیوں نہیں ہزاروں بلکہ لاکھوں حساس اور با ضمیر اِنسان ہیں ، لوگ ہیں ـ لیکن بے حِس اور بے ضمیر کروڑوں ہیں ـ یہ اِس وجہ سے لِکھنا پڑا کہ ایک ویڈیو بار بار دیکھنے کا موقعہ مِلا ـ ویڈیو ایک ایسی بچی کے مُتعلق تھی جِس کے سوتے میں ایک چھِپکلی اُس کے مُنہ کے راستے پیٹ میں چلی گئی ـ یہ ضِلع شیخُوپُورہ کا واقعہ ہے ـ اُس کا بھائی اُسے اُٹھائے اُٹھائے مُختلِف ہسپتالوں میں لئے لئے پھرتا رہا ـ کہیں ڈاکٹر نہیں تو کہیں الٹرا ساؤنڈ کی سہُولت نہیں ـ کہیں ڈاکٹر کے کمرے کو لگا تالا مُنہ چڑا رہا تھا تو کہیں سرجری کی سہُولت ہی سِرے سے موجُود نہ تھی ـ ایک جگہ خُدا خُدا کر کے ڈاکٹر مِلا تو اُس نے ڈانٹتے اور گالیں دیتے ہُوئے دوڑا دِیا ـ لڑکا اِنتہائی غریب تھا کِسی پرائیویٹ ہسپتال میں لے جانے کی اُسے جراّت نہیں تھی ـ اور نہ ہی بِل دینے کی اِستعداد رکھتا تھا ـ بہت دُکھ اور صدمہ ہُوا ـ
پاکِستان سے ہم سب نے لِیا ہی لِیا ہے ـ مُلک اور قوم کو ہم کیا دے رہے ہیں ـ کِتنا قرض ہے جو وطن کی مِٹی کا ہم نے اُتارا ہے ہم نے اب تک لاکھوں روپے جو قوم کے ہیں خرچ کئے ہوتے ہیں اُن کا صِلہ کیا یہی ہوتا ہے کہ اپنی ڈیوٹی سر انجام دینے میں پہلُو تہی کی جائے ـ
آج ایک مُحترم ڈاکٹر ، جی پاکستانی ڈاکٹر صاحب کی تھوڑی سی بات کرنے کے بعد آگے بڑھوں گا ـ
میں پچھلے سال بیمار ھونے کے بعد موڈیسٹو کے ایک مقامی ھسپتال کی ایمرجنسی میں جا پہنچا۔ پانچ چھ گھینٹے کے مسلسل ٹیسٹوں اور علاج معالجے کے بعد ایک ڈاکٹر صاحب میرے پاس آے۔ انھیں دیکھتے ھی مجھے مانُوسیت کا احساس ھوا۔ دو تین منٹ انگریزی میں بات کرنے کے بعد انھوں نے مُجھے کہا طارق کیوں نہ ھم اردو میں بات کریں یوں ھم اپنی زبان میں بات کرتے رھے۔ انھوں نے میری بیماری کی شدت کے بارے میں مجھے بتایا اور کہا کہ مجھے ھسپتال میں داخل کیا جا رھا ھے۔ پھر مجھے تسلی دی کہ گبھرانے کی ضرورت نہیں خُداوند کریم کے فضل و کرم سے آب جلد ھی ٹھیک ھو جاؤ گے یوں ڈاکٹر مُجتبیٰ سرور سے یہ میری پہلی مُلاقات تھی۔ میں دس دن ان کے زیرِ علاج رھا اِس دوران مجھے معلُوم ھؤا کہ چار پاکستانی ڈاکٹرز ھسپتال کی ٹاپ لِسٹ پر ھیں۔ دِل خؤش ھؤا اور سر فخر سے بُلند ھؤا۔
روشن پہلو جسکا میں تذکرہ کرنا چاھتا ھؤں یہ ھے کہ ڈاکٹر سرور جب بھی مجھے دیکھنے آتے تو ایک ڈاکٹر سے بڑھ کر بھی ایک لگاؤ ایک رشتہ محسؤس ھوتا۔ یہ تھا ھم وطن ھونے کا رشتہ ۔ واہ جس قوم میں ایسے خوبصورت اور دکھ درد میں شامل ھونے والے سپوت امریکہ جیسے ملک میں مقامی ڈاکٹروں میں اعلیٰ مقام اور عزت احترام پاتے ھیں تو اسی پیشے سے مُنسلک کُچھ ڈاکٹر پاکِستان میں اپنے کام میں لاپرواہی کی حدیں عبُور کر جاتے ہیں اور اِس مُقدس پیشے کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں ـ ڈینگی بُخار اور بلڈ پریشر کی غلط ادویات سے جب ہلاکتیں ہو رہیں تھیں تو اُس وقت بھی کُچھ اِسی طرح کا ماحول تھا اور ڈاکٹرز کی ہڑتالیں بھی چل رہیں تھیں
یہ تو مسِیحائی کا پیشہ ہے خُدا تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں میں شِفا کی قُوت دے رکھی ہے ـ اِس طرح کے لوگوں کی وجہ سے مسِیحائی کا پیشہ بدنام ہوتا ہے اور لاکھوں لوگ جو مسِیحائی کے اِس پیشے سے وابستہ ہیں اُن کی عِزت اور احترام کے لئے بھی ضرب کا سبب بنتے ہیں ـ پاکِستان کی ہزاروں نرسز اور ڈاکٹرز اندرُونِ مُلک اور بیرُونِ مُلک بڑی تندہی ، جانفِشانی اور محنت سے کام کر کے اپنے لئے اور مُلکِ پاکِستان کے لئے نیک نامی ، عِزت اور احترام کماتے ہیں ـ ضرُورت اِس بات کی ہے کہ لاپرواہ اور بے حِس قِسم کے لوگوں سے اِس مُقدس پیشے کو صاف کیا جائے ـ
حکُومت پاکِستان جیسے کہ اب ہر شعبۂ زِندگی میں تعمیری مراحل کو از سرِ نو شُروع کرنا چاہتی ہے اور اِقدام کر رہی ہے اُسے طِب کے اِس شعبے میں بھی اِنقلاب لانے کی ضرُورت ہے ـ خادمِ اعلیٰ جناب میاں شہباز شریف پنجاب کے اِس محکمے پر خصُوصی توجہ دیں اُن کی حکُومت میں اِس طرح کے واقعات اُن کی بھی بدنامی کا سبب بنتے ہیں ـ آپ تو لاپرواہی اور کوتاہی قطعاّ پسند نہیں کرتے اِس لئے آپ سے سخت اِقدامات کی توقع ہے اور یقیناّ غلط بھی نہیں ـ آپ ایسے بے ضمیر اور بے حِس لوگوں کو ٹھیک کر نے کی بِلا شُبہ زبردست صلاحیت رکھتے ہیں ـ آپ اور آپ کے بڑے بھائی وزیرِ اعظم پاکِستان میاں مُحمد نوٓاز شریف کا پاکِستان پر احسانِ عظیم ہوگا کہ خُداوند کریم نے آپ کو جو موقعہ دیا ہے اس میں آپ اپنی اور اپنے معاونین کی پُوری صلاحیتوں کو برُوئے کار لاتے ہُوئے پاکِستان کو تمام تاریک اور منفی پہلوؤں سے باھر نکالیں اور ملک کو اتنے سالوں سے ھمارے انفرادی اور اجتماعی طور پر پُہنچائےگئے نقصانات سے ازالہ کرتے ہُوئے ترقی کی راہوں پر پھِر سے گامزن کر دیں بیشک یہ حالات چند دنوں یا مہینوں میں نھیں ھؤئے بلکہ عرصہ دراز سے اس جانب بڑھتے بڑھتے اس نہج پر پہنچے ھیں۔
ملت اور قوم کو جس جس نے اور جو جو لؤٹ مار کر کے کمزور کیا ھے وہ واپس کرے۔ کرپشن خواہ کسی بھی طرح کی ھو اس سے جان چھڑائیں۔ سچائی اور ایمانداری کو اپنا وطیرہ بناتے ھؤے سچے دل سے ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ نئی نسلوں کو لوٹ مار ، قتل و غارت ، دھشت گردی اور افراتفری کے ماحول سے نکالیں ـ قوم آپ سے بھر پُور توقعات رکھتی ہے ـ

Advertisements