واٹسن گیل
نیدرلینڈز:17-09-2013

پاکستان میں عورت کی عزت نفس اور ناموس کی دھجیا کیسے اڑائ جاتی ہیں یہ کوئ ڈھکی چھُپی بات نہی۔ حواہ کی بیٹی چاہے دو سال کی ہو یا دوسو سال کی اس کی عزت معحفوظ نہی۔ ہمارے مُلک میں المیہ یہ ہے کہ زیادہ خواتین اپنے ہی محافظوں یعنی باپ، بھائ شوہر اور بہٹے کہ ہاتھوں موت کہ گھاٹ اُتار دیں جاتی ہیں۔ ابھی پانچ سالہ بچی کے ساتھ جو شرمناک واقیعہ پیش آیا اس واقعہ نے تو ٹی وی چیلنز کی جیسے لاٹری نکل گئ ہو۔ بیرون میڈیا نے تو ہاتھ پھر ہلکا رکھا، مگر اپنے اس کاروبار کی گنگا میں خوب ہاتھ دھوتے بلکہ نہاتے رہے۔ ان واقعات پر ہمارے قوانین کسی فالج زدہ انسان سے کم نہی بلکہ ہمارے سیاست دان بھی ان واقعات کی حساسیت کا ادراک نہی رکھتے۔ ابھی ایک سیاست دان محمد نواز ملک کا بیان پڑھ رہا تھا جو کہ ممبر پنجاب اسمبلی ہیں اور نواز لیگ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ پہلے تو اپنے بیان میں سیاست کرتے ہوئے اور اپنے آقا جناب نواز شریف کو خوش کرنے کے لیے ان شرمناک واقعات کی زمہداری پرویز مشرف پر ڈالتے ہیں۔ اور پھر فرماتے ہیں کہ ان واقعات کو شرعی حدود میں دیکھنا چاہے۔ میرا ان موصوف سے صرف اور صرف ایک ہی سوال ہے کہ بھائ شرعی قوانین کے تحت تو اس پانچ سالہ معصوم بچی کی عصمت سے کھیلنے والے صاف بچ جاییں گے۔ کیونکہ وہ بچی ایک تو خود ابھی نابالغ ہے۔ دوسرا وہ اپنی بے گناہی کے لیے چار گواہ کہاں سے لایے گی۔

Advertisements