BBC URDU
اسلامی نظریاتی کونسل نے توہین رسالت کا غلط الزام لگانے والے کو اسی سزا کا حقدار قرار دینے کی سفارش کی ہے جو الزام ثابت ہونے پر ملزم کو دی جا سکتی ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن مولانا طاہر اشرفی نے بدھ کو اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس کے بعد بی بی سی کو بتایا کہ توہین عدالت کے قانون میں تبدیلی نہیں کی جا رہی ہے۔
مولانا اشرفی نے کہا کہ ’ہم نے سفارش کی ہے کہ توہین رسالت کے قانون کو چھیڑے بغیر ایک نیا قانون بنایا جائے تاکہ غلط الزام لگانے والے کو بھی سزا دی جا سکے کیونکہ توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والا دراصل توہین رسالت ہی کا مرتکب ہوتا ہے‘۔
طاہر اشرفی نے بتایا کہ نظریاتی کونسل کے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ توہین رسالت کے قانون کے تحت بہتان تراشی کو روکنے کے لیے وزارت قانون کو نئی قانون سازی تجویز کرنے کی بھی باضابطہ سفارش کی جائے گی۔
اسلامی نظریاتی کونسل کا ادارہ ملک میں ایسے قوانین تجویز کرنے یا انہیں ختم کرنے کی سفارش کرنے کا حق رکھتا ہے جو اسلامی نظریات یا تصورات سے متصادم ہوں۔
مولانا اشرفی نے بتایا کہ کونسل کے اجلاس میں توہین رسالت کے قوانین کے مبینہ غلط استعمال کے بعض حالیہ واقعات زیر بحث آئے جس کے بعد جھوٹا الزام لگانے والے کو کڑی سزا دینے کا قانون بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ’آج کے اجلاس میں سفارشات مرتب ہوئی ہیں اور اب باقی کام مکمل ہونے پر متعلقہ وزارت کو بھیج دی جائیں گی‘۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن نے بتایا کہ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ خواتین کے ساتھ ریپ یا جنسی زیادتی کے مقدمات میں ڈی این اے کو شہادت کے طور پر قبول کرنے کی حمایت کی جائے گی۔
اس سے پہلے اسلامی نظریاتی کونسل نے ریپ کے مقدمات میں ڈی این اے کو شہادت کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کی تھی۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ حالیہ چند روز کے دوران خواتین اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی مذمت کرنے اور خواتین کے وقار کے حق میں جمعہ کو ملک بھر میں یوم رحمت منانے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان بھر کی مذہبی جماعتیں اور علما اس موقع پر خواتین کے حق میں مساجد میں خطبوں کا بندوبست کریں گے۔
پاکستان میں اس سے پہلے اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں کئی بار مطالبہ کر چکی ہیں کہ ملک میں توہین رسالت سے متعلق قانون کے غلط استعمال کو روکا جائے۔
سال دو ہزار گیارہ میں صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر اسلام آباد میں ان کی سرکاری محفاظ نے قتل کر دیا تھا۔ سلمان تاثیر توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال کے مخالف تھے اور انہیں قتل کرنے والے مجرم کے مطابق اُنہوں نے ایک ایسے شخص کو قتل کیا ہے جو سرعام توہین رسالت کا مرتکب ہوا۔

Advertisements