پاکستانی ڈچ کریسچن کمیونیٹی پشاور میں کوہاٹی گیٹ کے سامنے گرجا گھر کے باہر خودکش دھماکے کی پُرزور مُزمت کرتی ہے۔ اور اس شرمناک واقعہ میں شہید ہونے والے مسیحیوں کے لواحکین کے غم میں برابر کی شریک ہے،

Church1naamloosپشاور میں کوہاٹی گیٹ کے سامنے چرچ کے باہر خودکش دھماکے میں شہید ہونے والوں کی تعداد باسٹھ ہوگئی ہے جبکہ اسی سے زائد زخمی ہیں ۔ریسکیو ذرائع کے مطابق شہید اور زخمیوں میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق جیسے ہی چرچ میں عبادت ختم ہوئی خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ عینی شاہدین کے مطابق دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔پاکستان چرچ پشاور کے قدیم ترین گرجا گھروں میں سے ایک اور اتوار کے روز بڑی تعداد میں کریسچن کمیونیٹی عبادت کیلئے گرجا گھرآتی ہے، جن کی تعداد سیکڑوں میں بتائی جارہی ہے۔ پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ امدادی کاررائیوں میں حصہ لیا اور زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا۔سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

معروف سماجی شخصیت جناب گُلباز فضل نے اتوار کی صبح مجھے فون کیا ان کی بھرائ ہوئ آواز اور رونے کی وجہ جاننے کی کوشش کرتا رہا کیونکہ وہ کافی دیر تک فون پر موجود تھے مگر ان سے بات نہی ہو رہی تھی۔ اور پھر بڑی مُشکل سے مجھے اس واقعے سے آگاہ کیا اور ٹی وی دیکھنے کو کہا۔ اپنے مسیحی بہن بھائوں کے لیے یہ تڑپ دیکھ کر میں بہت متاثر ہوا۔ اسکے بعد متواتر فون آتے رہے۔ بلکہ بیلجیم سے تلعق رکھنے والے معروف سیاسی اور سماجی شخصیت جناب لطیف بھٹی صاحب نے بھی فون کیا اور اس شرمناک واقعہ کی پُرزور مُزمت کی اور اپنے دُکھ کا اظہار کیا۔ بھٹی صاحب نے کہا کہ ہمیں متحد ہوکر اس شرمناک واقعے کے خلاف تحریک چلانی چاہیے۔

میں اپنی مسیحی کمیونیٹی سے نیدرلینڈز۔ یورپ اور برطانیہ میں رہنے والوں سے پُرزور درخواست کرتا ہوں کہ اس شرمناک واقعے کی نہ صرف مزمت کریں بلکہ گھروں سے باہر نکلیں ،احتجاج کریں ،جلاس نکالیں اتنا شور کریں کہ ان مغربی طاقتوں کی کان جو پاکستانی مسیحیوں کے لیے بند ہیں کھل جاییں۔

پاکستانی ڈچ کرسچن کمیونیٹی نے اس شرمناک واقعہ کے خلاف ایک ہنگامی اجلاس بلا لیا۔ یہ اجلاس بروز سوموار تییس سیپتمبر کو شام سات بجے امسٹلفین میں ہوگا۔
Meeting on Monday 23 Sep at 7:00pm
Kostverlorenhof 103
1183 Amstelveen
7: pm۔

Advertisements