پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں چرچ پر خود کش حملے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ہسپتال ذرائع کے مطابق 82 ہو گئی ہے۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے مطابق ہلاکتوں کی کل تعداد بیاسی ہے، لیکن مسیحی برادری کے افراد کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ بڑی تعداد میں انسانی اعضا چرچ کے صحن میں بکھرے پڑے تھے جبکہ ہسپتال والے ان لاشوں کی گنتی کر رہے ہیں جو مکمل تھیں۔
ادھر چرچ پر حملے میں ہلاک ہونے والی دو بچیوں کی تدفین منگل کو کر دی گئی۔ ان دونوں بچیوں کی میتیں محفوظ رکھی گئی تھیں کیونکہ ان کے رشتہ داروں نے امریکہ سے پہنچنا تھا۔ . دھماکوں کے بعد سب سے پہلے چرچ پہنچنے والے ڈاکٹر سنیل نے بتایا: ’میں نے خود انسانی اعضا اکٹھے کیے۔ چھوٹے بچے اتنا زور دار دھماکہ برداشت ہی نہیں کر سکتے اس لیے ان کے سر پھٹ چکے تھے۔خواتین اور بچوں کے ٹکڑے صحن میں پڑے تھے ہسپتال کے حکام تو ان کو شمار ہی نہیں کر رہے۔‘
پشاور کے سب سے بڑے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں اتوار کو دو خود کش دھماکوں میں زخمی ہونے والے 207 افراد لائے گئے تھے جن میں سے 70 سے زیادہ کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا تھا۔
ہسپتال میں اب بھی 60 کے لگ بھگ افراد زیرِ علاج ہیں جن میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
پشاور چرچ دھماکوں کے سوگ میں تمام مسیحی سکول اور دیگر مشنری ادارے بند ہیں جب کہ چرچ میں دعائیہ تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔
نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق کوہاٹی گیٹ میں واقع آل سینٹس چرچ آف پاکستان میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سوگ میں بیٹھے ہیں، چرچ میں پھول رکھے جا رہے ہیں اور رات کے وقت شمعیں روشن کر دی جاتی ہیں۔
دوسری جانب حکام نے دھماکے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور اطلاعات کے مطابق علاقے میں سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
چرچ کے منتظمین نے بتایا ہے کہ چرچ میں کوئی کیمرا نصب نہیں اور ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ چرچ سے باہر راستے میں شاید کہیں کوئی کیمرا نصب ہو تو اس کی فوٹیج حاصل کی جائے گی۔
ادھر تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے چرچ پر حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنی تنظیم کے تمام دھڑوں سے رابطہ کر کے معلوم کیا ہے لیکن یہ کارروائی ان کے کسی ساتھی نے نہیں کی ہے۔

Advertisements