تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے حال ہی میں پشاور کے ایک قدیم گرجہ گھر پر ہونے والے حملے کے بارے میں کہا ہے کہ یہ حملہ ’شریعت کے مطابق‘ تھا تاہم یہ تحریک یا اس کی کسی ذیلی تنظیم نے یہ حملہ نہیں کیا۔
کسی نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر بی بی سی اردو سروس سے کیے گئے انٹرویو میں تحریک طالبان کے ترجمان نے کہا کہ تحریک ایک ایسی تنظیم ہے جس میں شامل تمام گروہوں کے نظریات یکساں ہیں تاہم تنظیم کے بہت سے ذیلی گروہ ہیں جیسا کہ کسی بھی حکومت کے مختلف ادارے ہوتے ہیں۔
ذرائع ابلاغ میں تحریک طالبان پاکستان کے ذیلی گروہوں کی تعداد تقریباً پینتیس تک بتائی جاتی ہے لیکن شاہد اللہ شاہد نے اپنے ذیلی گروہوں کی تعداد نہیں بتائی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کسی بھی جگہ کارروائی کرنے کا فیصلہ کون کرتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ مرکزی قیادت نہیں کرتی۔
’ہمارا مقصد سب (تمام ذیلی گروہوں) پر واضح ہے۔ ہم نے اپنے آدمیوں کو کھلی چھٹی دی ہے کہ جس دشمن کے ساتھ ہمارے جنگ ہے وہ ان کے خلاف کارروائی کریں۔‘ وہ ہمارے مقصد سے باخبر ہیں اور وہ ہمارے مقصد سے ہٹ کر حملہ نہیں کر سکتے۔ اگر وہ ہمارے مقصد کے خلاف حملہ کرتے ہیں تو ہم انہیں اپنی عدالت میں حاضر کرتے ہیں اور انہیں سزا دیتے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ چونکہ تحریک نے اپنے لوگوں کو ’کھلی چھوٹ‘ دے رکھی ہے، یہ ممکن ہے کہ کسی بھی ذیلی گروہ نے پشاور میں حملہ کر دیا ہو تو انہوں نے کہا کہ حملے کے بعد انہوں نے میڈیا سے بات کرنے سے پہلے تحقیق کی۔’یہ ہم نے نہیں کیا۔تحریک کے مقاصد کے بارے میں شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ یہ کہیں پر باقاعدہ قلمبند نہیں کیے گئے ہیں۔
تحریک طالبان میں شمولیت اختیار کرنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جو اسلام کو دوسرے مذاہب پر غالب کرنا چاہتا ہے وہ ہم میں شامل ہو جاتا ہے۔’بیعت لینے کا تکلف ہم زیادہ نہیں کرتے۔ عام طور پر لوگ چھوٹے چھوٹے گروہوں میں آ کر شامل ہوتے ہیں اور عام طور پر وہ ہمارے بڑے امیرصاحب کے ساتھ ملتے بھی نہیں ہیں۔ تحریک میں داخلہ طبعی ہے‘۔
پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے تحریکِ طالبان پاکستان کا باضابطہ دفتر کھولنے کی تجویز پر ان کا کہنا تھا کہ ’دفتر کھولنے کا ہمارا ابھی ارادہ نہیں ہے۔ ہم کراچی، اسلام آباد، پشاور اور دیگر شہروں میں بھی موجود ہیں۔ ہمیں ابھی دفتر کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر عمران خان نے یہ بات اخلاص کے ساتھ کی ہے تو ہم اس کے لیے ہدایت کی دعا کرتے ہیں۔‘
حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے تحریک کے ترجمان ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ ان کی نظر میں ابھی کوئی غیر جانبدار ثالث سامنے نہیں آیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ماضی میں ایسی پیشکش کرنے والے رہنما مثلاً مولانا فضل الرحمان یا مولانا سمیع الحق، موزوں ثالث نہیں تو انہوں نے کہا کہ ابھی تحریک میں اس پر غور کیا جا رہا ہے تاہم حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے لیکن پھر بھی ذرائع ابلاغ نے بلاوجہ ’آسمان سر پہ اٹھا رکھا ہے‘۔

Advertisements