کڑا وقت ہمیں مِل جُل کر کاٹنا ہے
آج معرُوف کالم نویسوں کے کالم پڑھنے ـ ٹیلی ویژن چینلوں پر خبریں سُننے ـ ٹالک شوز دیکھنے اور مُباحثوں میں تکرار ملاحضہ کرنے کے بعد دِل بہت بوجھل پن محسُسوس کرتا ہے ـ عیدِین اور دُوسرے تہواروں پر خُوشیوں کے رنگ جو چڑھے ہوتے تھے آج پھیکے پھیکے اور ماند ماند لگتے ہیں ـ ایک تو ہماری قیادتوں اور حکُومتوں کی نا اہلی کی بدولت مُلک اِنتہائی غُربت کی حالت کی طرف رواں دواں ہے ـ غریب غریب سے بدتر ہوتا جا رہا ہے اور زبُوں حالی کی طرف گامزن ہے ـ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ رکھی ہے ـ اِتنے سالوں کی بد اِنتظامی نے اِس حال کو پُہنچا دیا ہے ـ صدر ایوب خاں کے دور میں بنائے گئے منصُوبوں سے ہم آگے آنے والی حکُومتوں کے ادوار میں ایسے منصُوبوں پر عمل درآمد نہ کر سکے یوُں نہ کوئی ڈیم بنا کہ جِس سے بِجلی حاصل ہو سکتی اور نہ پانی ذخیرہ کرنے کی کوئی کوشِش ہُوئی اور اگر ہُوئی تو صُوبوں کی آپس کی لڑائیوں کی بدولت اُن پر عمل درآمد نہیں ہوسکا ـ تیل اور گیس کے ذخائر کو احتیاط سے اور مُناسب طریقے سے اِستمعال نہیں کیا گیا ـ اور نئے ڈھُونڈنے میں بھی تساہُل سے کام لیا گیا ـ
چوری تو اپنی جگہ موجُود ہے ہی پر محکمہ جاتی بھی کئی خرابیاں ہیں اور کرپشن الگ سے ہے ـ گویا قُدرتی وسائل جِن سے خُداوند کریم نے ہمارے مُلک کو مالا مال کر رکھا ہے اُن سے اِستفادہ بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہی ہو پایا ہے ـ اِن منصُوبوں اور اِن جیسے منصُوبوں سے آنکھیں چُرا کے ہم کِسی دوُسری ہی سِمت میں نِکل دوڑے ـ اب دیکھیئے پِچھلے پینتیس چھتیس ساولوں سے ایک اُفتاد جو ہمارے سروں پر آ پڑی ہے اُسے ہم بھُگت رہے ہیں اور یہ شائد ہمارے منصُوبے میں بھی نہ تھی ـ یا مُجھے یُوں کہنے دیجیئے کہ وہم و گُمان میں بھی نہ تھی ـ اِس اُفتاد نے جو تھوڑی بہت ترقی کی کوششیں تھیں بھی اُن میں بھی رکاوٹ ڈال دی ـ دُنیا کے تمام مُمالک میں اُن کے بارڈرز کے ذریعے در اندازی مُشکل ترین بلکہ نا مُمکِن ترین ہوتی ہے ـ اگر ہو بھی تو پکڑ میں آنا مُشکل نہیں ہوتا لیکن ہمارے مُلک میں تو جِسے دیکھو مُنہ اُٹھائے چلا آیا ـ اور ہم نے بھی کھُلے بازوُؤں سے اور بڑی گرم جوشی سے سب کا والہانہ اِستقبال کیا ـ یُوں اِن لوگوں میں دہشت گردوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی داخل ہو گئی اور آج طمطراق سے ہمارے مُلک کی باسی ہے جِن کی بدولت مُلکی وسائل جو اب ہمارے مُلک کے لوگوں کے لئے ہی کم کم ہوتے جا رہے تھے اِن میں اِن تمام غیر مُلکی لوگوں کو بھی شامِل کر لیا اور حِصہّ دار بنالیا ـ
اور یوں دہشت کا ایک نیا باب کھول لیا ہے ـ اِنھوں نے مُقامی لوگوں کو بھی اپنے نظریات کے ساتھ مِلا لیا ـ یوں آج دہشت اور بربریت کابازار پاکِستان کے ہر ہر حِصے میں کھُل چُکا ہے ـ اِس دہشت اور بربریت کے ذریعے پچاس ہزار سے زیادہ معصُوم لوگوں کی خُون ریزی کی گئی ہے ـ پاکِستان کی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ـ پاکِستان کی مصلح افواج ، رینجرز ، پولیس اور دیگر ایجنسیوں کے لوگوں کو شہید کیا گیا ـ لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہر ہر شہر میں پیدا کر د یا گیا ـ لُوٹ مار ، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کے ذریعے امن و عامہ کو تہہ و بالا کر دیا گیا ـ آج مُفتیء اعظم نے خُطبہ حج میں فرمایا ہے کہ اسلام میں ٹیرر اِزم کی کوئی گنجائش نہیں اور نہ ہی مذہبی اقلیتوں سے اِس طرح کے ناروا برتاؤ کی اجازت دیتا ہے ـ بلکہ اُن کے جان و مال اور عبادت گاہوں کو تحفظ دیتا ہے ـ
پیغمبرِ اسلامؐ کے حُسنِ سلُوک کو کون بھُول سکتا ہے ـ اُنھوں نے اپنے اوُپر کچرا پھنکنے والی بُڑھیا کی بھی عیادت کی ـ نصارا کے وفد کو مسجدِ نبوی میں ٹھہرایا اور اُن کامعاہدہ آج بھی سینٹ کیتھرین چرچ سینائی مِصر میں موجُود ہے جو چھ سو اٹھائیس میں اُنھوں نے ایتھوپیا کے مسیحیوں کو لِکھ کر کیا ـ اِس معاہدے میں اُنھوںؐ نے یہ کہا کہ مسیحیوں کی حِفاظت مُسلمانوں کے ذِمے ہوگی ـ
اُنھوںؐ نے اُن باتوں سے منع فرمایا جِن سے مسیحی نا خُوش ہوں ـ اُن کی بتائی ہُوئی باتیں ہمیں ذرا ذرا یاد ہیں ـ ہمیں تو وہ حدیث بھی ہر وقت یاد رہتی ہے کہ ایک اِنسان کا قتل پُوری اِنسانیت کا قتل ہے ـ اور ’’ پھِر اسلام تو امن کا دین ہے ،، یہ باتیں اِن خُون ریزوں کو اور غارت گروں کو کیوں سمجھ نہیں آتیں جِن کی وجہ سے اسلام کا ایک منفی پیغام لوگوں کو جاتا ہے حتیٰ کہ وہ عید جیسے ایک پاک اور نہایت قابلِ احترام دِن پر بھی خود کش حملہ کر کے ڈیرہ اسماعیل خاں میں خیبر پختُون خواہ کے وزیرِ قانُون اور دیگر لوگوں کو نشانہ بنا کر شہید کر دیتے ہیں ـ پشاور چرچ میں معصُوم جانیں لینے ، چار سدہ بس اور قِصہ خوانی بازار میں دھماکوں کی وجہ سے خیبر پختُون خواہ کی فضا تو پہلے ہی سوگوار تھی خصُوصاّ مسیحی ابھی تک اِس صدمے سے باہر نہیں نِکل پائے ـ معصُوم مسیحیوں کی جانیں تو تلف ہُوئیں پر زخمیوں کی حالت اِتنی خراب ہے کہ غریب لوگوں کو اپنے زخمیوں کو سنبھالنا مُشکل ہو گیا ہے ـ کشمالہ اور فرح دو بچیاں جو چرچ دھماکے میں شدید زخمی ہیں اُنھیں بھی ملالہ کی طرح بیرُونِ مُلک علاج کی اشد ضرُورت ہے ـ اِنسانی ہمدردی کے اور حکُومتی ادارے ابھی تک خاموش ہیں ـ اِن کو چاہیئے کہ وہ جلد سے جلد اِن غریب اور بے بس لوگوں کی داد رسی کریں ـ
مسیحی اداروں اور لوگوں سے بھی توقع ہے کہ اپنی مدد آپ کے ذریعے مقدُور بھر مدد کی کوشِش کریں گے اور خصُوصاّ پشاور چرچ کے ذمہ داروں اور بِشپ آف پشاور ڈائسس کو اِن لوگوں کو کسی بھی قِسم کی شکائت نہیں ہونے دینی چاہیئے ـ یہ کڑا وقت ہمیں مِل جُل کر کاٹنا ہے ـ

یُوں آزمائیشوں کے بھنور ایسے ہم پاٹیں گے
ورنہ زخم روز روز یُوں ہی ہم چاٹیں گے
کوئی روگی نہ کوئی ننگا نہ کوئی ہو پیاسا
عہد کریں مُصیبت مِلجُل کر ہم کاٹیں گے
قدرِ اِنسانیت دِلوں میں اُجاگر کریں گے اب
نفرت کی رِیت چھوڑ مُحبتیں ہم بانٹیں گے

سیمسن طارق موڈیسٹو کیلیفورنیا

Advertisements