واٹسن گل
ہالینڈ: 31-10-2013

بائیس سیپتمبر اتوار کا دن پاکستانی مسیحیوں کے لیے ایک ناقابل فراموش دن کی حیثیت اختیار کر گیا۔ اس بدنصیب دن کو پاکستانی مسیحی ہمیشہ یاد رکھینگے۔
28th oct 2013. community,28th oct 2013. community,2
جب مجھےایک دوست نے بتایا ،تو یہ بھیانک خبر سن کر مجھ پر کیا گزری اس کیفیت کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ آدھے گھنٹے تک دماغ اور سوچ کا تال میل منقظع رہا، اور پھر دُعا کرنے کے بعد ایک عزم کے ساتھ اپنے آپ کا جائزہ لیا کہ اس شرمناک حادثے میں ہونے والے جانی نقصان پر کیا کردار ادا کر سکتا ہوں۔ کہ ان وقعات کی روک تھام ہو سکے۔ کیا اپنے بالوں کو نوچوں؟۔ کوئ فایدہ نہی۔ چندہ جمح کرنا شروع کروں؟۔ پھر سوچا کہ بہت سی این جی اوز یہ کر رہی ہونگی۔ اور پھر مالی مدد وقتی مرہم تو ہے مگر مستقل علاج نہی۔(یہ میرا زاتی نظریہ ہے)۔
921637_532813410145333_366577018_o1403327_532806830145991_984843335_o
اپنے پاسٹر ندیم دین کو فون کیا تو انہوں نے ہمت بندھائ۔ اسکے بعد جناب ساجد بھٹی صاحب سے مشورہ کیا۔ تھوڑی دیر میں بیلجیئم سے معروف سیاسی شخصیت جناب لطیف بھٹی صاحب کا فون آیا پریشانی اور غم ان کی آواز سے ظاہر ہو رہا تھا۔ ان کے بعد برطانیہ سے جانے پہچانے کالم نویس اور معروف سماجی کارکن جناب ناصر سید صاحب کا فون آیا، پھر پاکستان، فرانس ہالینڈ، اسپین وغیرہ۔۔۔۔۔ سب بھائوں کا غم اور غصے سے بُرا حال تھا۔ ہم نے دوسرے ہی دن ایک ایمرجینسی میٹینگ بلا لی۔ جو کہ بہت ہی کامیاب رہی۔ اس میٹینگ میں ہالینڈ اور بیلجیئم کی نامور شخصیات نے شرکت کی
28th oct 2013.1. watson, dr david, latif,1071159_532812050145469_280346878_o
فیصلہ کیا گیا کہ احتجاج ریکارڈ کروایا جائے۔ پہلے مرحلے میں پاکستانی سفارتخانے کے سامنے مظاہرہ کیا جائے مگر احتجاج کے طور پر پٹیشن پاکستانی سفارتخانے کے بجایے ہالینڈ کی وزارت خارجہ میں پیش کی جایے۔ اور ہم نے اپنا پہلا مرحلہ نہایت احسن طریقے سے انجام دیا۔ وزارت خارجہ میں پٹیشن پیش کرنے کے لیے ہمارا وفد جس میں مجھ سمیت لطیف بھٹی، پاسٹر ندیم دین اور سیلویسٹر بھٹی صاحب موجود تھے۔ وزارت خارجہ کے بین لاقوامی امور کی ڈائریکٹر مارٹنی فان ہوگسترا سے تعارف کے دوران اچھا لگا جب انہوں نے مجھے مخاتب کر کے کہا کہ وہ مجھے جانتی ہیں۔
28th oct 2013.1watson ,latif
دوسرے مرحلے میں ہمیں یوروپئن یونین کے دروازے کو کھٹکھانا تھا۔ برطانیہ سے معروف کالم نویس اور دانشور جناب ناصر سید صاحب مسلسل فون پر میرے ساتھ رابطے میں تھے۔ اور اپنے قیمتی مشوروں سے میری مدد کر رہے تھے۔ یوروپیئن پارلیمینٹ پر مظاہرے کے انتظامات کو سمبھالنے کے لیے ایک ایکشن کمیٹی بنائ گئ۔ جو کہ ہالینڈ اور بیلجیم کے نماعندوں پر مشتمل تھی۔ کمیٹی میں ہالینڈ سے پاسٹر ندیم دین ساجد بھٹی، عابد شکیل، پرویز اقبال، اعجاز سرفراز ، سیلویسٹر بھٹی اور واٹسن گل شامل تھے۔ جبکہ بیلجئم سے پاسٹر جان اشرف، لطیف بھٹی، اشرف بھٹی صاحب شامل تھے۔ مشترکہ رضامندی سے فیصلہ کیا گیا کہ یہ پروٹیسٹ کسی بھی گروپ ، چرچ، یا تنظیم کے پلیٹ فارم کے بجایے یورپ اور برطانیہ کی پاکستانی مسیحی کمیونیٹی کے نام سے کیا جایے گا۔ ایکشن کمیٹی نے مجھے ہالینڈ اور جناب لطیف بھٹی کو بیلجئم کے لیے رابطہ کار کے طور پر منتخب کیا۔

سوشل میڈیا پر مظاہرے کے حوالے سے علان ہوتے ہی ہم نے بہت سے غیور مسیحوں سے رابطہ کرنا شروع کیا۔ ان میں بہت بڑے نام بھی تھے۔ جو کہ اپنی خدمات کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ اور اس فریضے میں بھی وہ ہمارے ساتھ آ کھڑے ہوئے۔ بدقسمتی سے شدید طوفان نے ہمارے مظاہرے کو متاثر ضرور کیا لیکن پھر بھی یورپ بھر سے وفود پہنچ گئے۔ اس طوفان سے برطانیہ برائراست متاثر تھا۔ مجھے پیغام مل چُکے تھے کہ دو وفود جو برطانیہ سے تلعق رکھتے ہیں، وہ نہی پہنچ سکیں گے۔

تیز ہواؤں اور ہائ وے پر درختوں کے گرنے کی وجہ سے مجھ سمیت بہے سے لوگ دیر سے پہنچے۔ بلکہ بعض تو رستے میں ہی رُک گے۔ مظاہرے میں تمام مقررین نے پشاور چرچ کے حادثے کی پُرزور مزمت کی اور متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی کا عزم کیا۔ مقررین میں برطانیہ سے ڈاکٹر پیٹر ڈیوڈ اور جان باسکو اٹلی سے سرور بھٹی، فرانس سے جان تسنیم (فرانس سے ایک وفد جناب شوکت رضا اور ریاض خان کے ساتھ دیر سے پہنچا تھا)۔ ناروے سے ظفر اقبال، جرمنی سے طارق جاوید، سپین سے جمشید صفدر، بیلجئم سے لطیف بھٹی، پاسٹر کیمرون، پاکستان سے بشپ یقوب پال، ہالینڈ سے پاسٹر ندیم دین، مایئکل ویئلم ، بشپ عمانیل آفتاب، اور واٹسن گل شامل ہیں۔ اسکے علاوہ مقررین میں یوروپئن یونین سے منسلک انسانی حقوق کی تنظیم کے نمایندے اور میمبر ہف یوروپئن پارلیمنٹ مسٹر لُک بروکرز موجود تھے۔ یوروپین یونین کے نمایندے برائے ہالینڈ جناب پیٹر فان ڈیل کو پٹیشن سپرد کی گئ اور مطالبہ کیا گیا کہ یوروپیئن یونین اس سلسلے میں اپنا اثر رسوخ استمال کرے۔ اس پروٹیسٹ میں میزبابی کے فرائض کے لیے بیلجئم سے مسٹر فرنینڈو اور ہالینڈ سے معروف شاعر اور سیاسی نام جناب پرویز اقبال تھے۔ جو اردو اور انگریزی میں بہت عمدہ طریقے سے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔
1397781_532808150145859_1758912535_o
جن دوستوں سے باعث طوفان ہماری ملاقات نہ ہو سکی ان میں کمیونیٹی کی خدمات کے حوالے سے معروف اور جانے پہچانے نام ہیں اور ہمارے لیے اثاثہ ہیں۔ جناب تسکین خان نے سوشل اور الیکٹرونیک میڈیا پر اس پروٹسٹ کو بہت سپورٹ کیا۔(اس فہرست میں ڈاکٹر پیٹر اور جان باسکو بھی شامل ہیں) اس کے علاوہ معروف قانون دان جناب قمر شمس، جاوید اقبال ، معروف کالم نویس (دی نیوز) اور سماجی شخصیت ناصر سید (مجھے ان سے زاتی طور پر بہت کچھ سیکھنے کو ملا) اورمعروف مسیحی نوجوان ولسن چوہدری بھی شامل ہیں۔ مظاہرے کا اختتام خُدا کے خادم پاسٹر ندیم دین کی دُعا سے ہوا۔ نزدیک ہی ایک ہال میں مظاہرین کے لیے کھانے کا انتظام تھا۔
792424_532810090145665_2109689879_o
ہم خُداوند کریم رب الافواج کا شکر کرتے ہیں جو دلوں اور گردوں کا حال جانتا ہے۔ اس پروٹیسٹ کے حوالے سے بہت سی جھوٹی خبریں اور افواییں اڑاییں گئ۔ مگر خداوند نے ہماری مسیحی زمہداری کو پورا کرنے میں ہماری مدد کی۔ پہلی بار کسی ایک پلیٹفارم پر یورپ اور برطانیہ کے مسیحی بغیر کسی گروپینگ کے متحد ہوئے۔ اور ہم عہد کرتے ہیں کہ قوم کو اکٹھا کرنے کے لیے ہم آگے بھی اقدامات کرتے رہیں گے۔

Advertisements