حکیم اللہ محسود شہید، ممتاز قادری غازی اور ڈاکٹر آفیہ صدیقی معصوم مگر ملالہ یوسف زئ غدار؟۔

جماعت اسلامی کے امیر منورحسن کی جانب سے ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کو شہید قرار دینے کے بیآن پر میں حیرت زدہ رہ گیا۔ پاکستان میں رہنے والا ہر زی شعور یہ جانتا ہے کہ حکیم اللہ محسود کے ہاتھ ہزاروں پاکستانی فوجیوں اور پولیس کے جوانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ پینتیس ہزار سے زیادہ معصوم شہری جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں اس کے عطاب کا شکار ہوئے۔ کوئ مسجد، مندر، چرچ، بزرگوں کے مزار، امام باگاہیں۔ لڑکیوں کے اسکول اورمسلح افواج کی تنصیبات ان سے محفوظ نہی رہیں۔ اور تو اور یہ تو پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے خطرہ بنے رہے اور یہ شہہید قرار دیے جا رہے ہیں۔

ممتاز قادری جس نے ایک ایسے گورنر کو محض اس لیے مار دیا جو ایک مسیحی خاتون کو انصاف دلانے کی صرف کوشش کر رہا تھا۔ ممتاز قادری کو اس جماعت نے ہیرو بنا دیا۔

ڈاکٹر آفییہ صدیقی جن کا اپنا شوہر یہ کہہ رہا ہے کہ وہ جہاد ک بات کرتی تھیں۔ ان کے کئ دوستوں نے بھی زکر کیا کہ ڈاکٹر صاحبہ امریکہ کے خلاف سخت موقف رکھتی تھی۔ جماعت اسلامی اور ان جیسی سوچ رکھنے والے دراصل پاکستان کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ یہ پاکستان کو تنہا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ڈاکٹر آفییہ صدیقی کو معصوم مانتے ہیں۔ جماعت اسلامی کی سوچ کا اندازہ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ چند روز پہلے ایک ٹی وی ٹاک شو میں فرید پراچہ صاحب پاکستان میں خواتین کے اغواہ اور ان کے ساتھ زیادتی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اغواہ ہونے والی خاتون بھی اتنی ہی مجرم ہے جتنا کہ اغواہ کار، نہ خواتین گھروں سے نکلیں نہ کوئ ان کو اغواہ کریں۔ اب کوئ اس جاہل شخص سے پوچھے کہ ان خواتین کو کیا قصور جو اپنے ہی گھروں سے اغواہ کر لی جاتی ہیں، یا پھر وہ خواتین جن کو کوئ کمانے والا نہی ہے۔

ملالہ یوسف زئ جو کہ ایک سولہ سالہ بہادر لڑکی ہے۔ جس کی ہمت اور حوصلے کو جماعت اسلامی کے یہ ہیرو بھی نہ توڑ سکے ۔ ملالہ یہودی اور امریکہ کی ایجنٹ۔ وہ بچی جو پاکستان میں خواتین کی تعلیم کے لیے آواز بلند کر رہی ہے۔ ملالہ پر الزام لگانے والوں میں کچھ تنگ نظر صحافی بھی ہیں ، جن میں اوریا مقبول جان اور انصار عباسی شامل ہیں۔ یہ نام نہاد دانشور کیسے کیسے بے تکے سوال اٹھاتے ہیں۔ کہ ملالہ نے اپنی کتاب میں قائداعظم کو قائداعظم کے بجائے جناح لکھا ، ارے بھائ میں پوچھتا ہوں کہ سوائے پاکستان کے ساری دنیا اسے جناح لکھتی اور پکارتی ہے کیا یہ گالی ہے۔ اگر ہے تو ساری دنیا قصور وار ہے۔ یہ بلکل ایسے ہی ہے جیسے ساری دنیا مصطفی کمال، کرم چند گاندھی کو پکارتی ہے مگر ان دونوں کو قوم کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی دونوں صورتوں میں غلط نہی ہے۔ الزام لگایا گیا ہے کہ ملالہ کا باپ یورپ اور امریکہ کو دوروں میں اس کے ساتھ کیوں ہوتا ہے ۔ ارے عقل کے اندھوں اگر ہمارے صدور اور وزرائےاعظم اپنے اپنے خاندانوں کے ساتھ سرکار کے پیسوں پر غیر ممالک کے دورے کر سکتے ہیں تو ملالہ پر یہ پابندی کیوں جبکہ کہ اس کے اخراجات تو پاکستانی حکومت کی جیب سے نہی ہوتے۔ پھر یہ کہنا کہ ایک سولہ سالہ لڑکی یہ کتاب نہی لکھ سکتی بےتکی بات ہے۔ جب ارفع کریم رندهاوا‎‎ نو سال کی عمر میں مائیکروسوفٹ ڈیزاینر میں ایکسپرٹ ہو سکتی ہیں تو ملالہ کیوں کتاب نہی لکھ سکتی۔ جو بچی صدر اُباما کی آنکھوں میں انکھیں ڈال کر ڈرون حملوں کی مزمت کرتی ہے وہ پاکستان کو بدنام کر رہی ہے، جس بچی کی یہ ہمت‘ یہ جرأت کہ یہ یو این میں خطاب کر جائے اور وہاں پاکستان کی نمایندگی کرے وہ پاکستان کو بدنام کر رہی ہے۔ جس بچی کو ملکہ برطانیہ عزت سے اپنے محل میں بلایے، صدر اوبامہ جس بچی سے اپنی بیگم اور بچونکوں ملوانے پر فخر کرے۔ جس بچی کو اس عمر میں دنیا کے سب سے زیادہ عزت دار ایوارڈ (نوبل پرائز) کے لیے نامزد کیا جایے۔ جس بچی کو یورپ، برطانیہ اور امریکہ کے بڑے بڑے اعزازات سے نوازا جایے جو کہ خود پاکستان کے لیے عزت اور افتخار کی بات ہے وہ بچی پاکستان کو بدنام کر رہی ہے اور تم جیسے تنگ نظر، بناد پرست، دہشتگردوں کی پُشت پناہی کرنے والے پاکستان کی عزت پر چار چاند لگا رہے ہو۔ جس ملالہ کو پوری دنیا میں عزت مل رہی ہے اس کو اپنے ہی وطن میں رسوائ مل رہی ہے اور قصور صرف یہ کہ ملالہ پاکستان کو سر فخر سے اونچا کیوں کر رہی ہے۔

Advertisements