شمالی تنزانیہ میں ایک اور مسیحی رہنما چرچ میں عبادت کے دوران شہہید کر دیا گیا۔ واٹسن گل،

چند نامعلوم افراد نے عبادت میں مصروف مسیحیوں کو جو کہ رات ایک بجے گلگال مسیحی پینتیکوسٹل سینٹر عبادت میں مصروف تھے کہ اچانک چند مسلح افراد نے اس عبادت سینٹر پر ھملہ کر دیا اورزندہ مسیحوں کے جسم کے مختلف حصوں کو کاٹنا شروع کر دیا. حملے کا مقصد واضح نہیں ہے۔ اس حملہ میں ایک مسیحی نوجوان شہہید ہو گیا اور دو کی حالت شدید خطرے میں ہے۔

یہ دلخراش واقعہ بایس اکتوبر کی رات کو جھیل وکٹوریہ کے کنارے پر موجود صوبہ موانزا کے شہر Ilemela میں پیش آیا ۔یہ صوبہ یوگینڈا اور کینیا کی سرحد پر واقع ہے۔ پینتیس سالہ Elias Lunyamila Meshack موقع پر جاں بحق ہو گیا۔ اس مسیحی شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک راستباز مسیحی تھا اور ہر شخص اس کی عزت کرتا تھا۔ بہت سے لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ اس کی ہلاکت بہت بڑا نقصان ہے۔ ایک اور مسیحی مساکوزی نامی کے سر پر بہت شدید چوٹ آئ تھی اس کا بچنا بھی ناممکن تھا مگ اب یہ مسیحی معجزاتی طور پر ٹھیک ہو رہا ہے۔ ریجنل پولیس کمانڈر Earnest Mangu کا کہنا ہے کہ کچھ اور بھی زخمی بھی اب بہتر ہیں۔

Gilgal Christian Worship Centre Bishop Eliabu Sentozi فرماتے ہیں کہ اس شیطانی حملے میں کوئ ایسے ثبوت نہی ملے کہ یہ حملہ آور کوئ چور یا ڈاکو تھے۔ اُنہوں نے کُچھ بھی نہی لوٹا، بس حمل کیا اور فراف ہو گئے۔ یاد رہے کہ اسی دن مشرقی افریقہ میں کینیا میں دو پاسٹرز کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اور ان علاقوں میں چرچز اور مسیحی املاک پر حملوں میں قدرے تیزی آئ ہے۔

اسی سال مئ کے مہنے میں آٹھ افراد (چار سعودی عرب اور چار تینزانیہ کو گرفتار کیا گیا تھا جو شمالی تنزانیہ کے شہر آروشہ میں ایک رومن کیتھولک چرچ کو بم دھماکے میں اڑانے میں ملوث تھے گرفتار کیا گیا تھا ۔اس چرچ کو جس کا حال ہی میں تعمیر کیا گیا تھا اور جس کا افتتاح ویٹیکن کے سفیر برائے تینزانیہ نے کیا تھا ۔اس حملے میں سفیر ویٹیکن عزت ماآب جناب Archbishops Francisco Montecillo Padilla بال بال بچے تھے، مگر دو مسیحی شہید ہو گئے تھے۔

ان علاقوں میں اسلامی شدت پسندی بڑھ رہی ہے اور مسیحیوں کے ساتھ تعصب اور ظلم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گُزشتہ گرمیوں میں Zanzibar میں دو بریٹش مسیحی لڑکیوں کے چہروں پر تیزاب پھینک کر ان کو جلا دیا گیا تھا۔

Advertisements