واٹسن گل
نیدرلینڈز: 28 november 2013
پاکستانی ڈچ کرسچن کمیونیٹی کا ایک اہم وفد ایک بار پھر ڈچ پارلیمنٹ میں پارلیمنٹ کے ممبر جناب جوئل فوردوینڈ کو پٹیشن پیش کرے گا۔

یہ وفد واٹسن گل، پاسٹر ندیم دین، عابد شکیل، ساجد بھٹی، پرویز اقبال، برٹ ٹین بروک( تنظیم مزہبی ہم آہنگی) اورایم سیعد(انٹرکلچرل پروگرسیو) پر مشتمل ہے۔ اور یہ وفد جمرات پانچ دسمبر کو دو بجے ڈچ پارلیمینٹ میں جناب جویئل فوردوینڈ سے ملاقات کرے گا۔ اور ہالینڈ میں پاکستانی مسیحی پناہگزین کے کیسس مسترد ہونے پر اپنے بھرپُور تحفظات کا اظہار کرے گا۔ اور اس سلسلے میں پٹیشن پیش کرے گا۔

یہ پٹیشن پاکستانی مسیحی پناہ گزین کے حوالے سے ہے۔ ساری دُنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں مسیحی آزاد نہی ہیں۔ گزشتہ پانچ سالوں میں بارہ سے زیادہ مسیحی بستیاں تباہ برباد کر دی گئ۔ سینکڑوں مسیحی لڑکیوں کو اغواہ اور زبردستی مسلمان بنانے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ گستاخ رسول کے قانون کی آڑ میں مسیحیوں کو خوفزدہ کر رکھا ہے۔ اگر چند مسیحی خاندان پاکستان سے نکلنے میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں تو ان کو یورپ میں پناہ نہی دی جاتی جو کہ مسحیوں کے ساتھ ظلم ہے۔ پم ہالینڈ میں رہنے والے مسیحی، اور انسانی حقوق کے نمایندے ہالینڈ کی حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ پاکستانی مسحیوں کی پناہ کی درخواستوں کو قبول کیا جائے۔ ان کو ہالینڈ میں رہنے کی اجازت دی جائے اور وہ پناہ گزین جن کو کھُلے آسمان کے نیچے بے یار و مدد گار چھوڑ دیا گیا ہے ان کو کیمپوں واپس لیا جائے اور ان کے کیسس کو نرمی سے سُنا جایے اور اگر وہ ثابت کرییں کہ وہ پاکستانی مسیحی ہیں تو ان کو ہالینڈ میں رہنے کی اجازت دی جایے۔

ہم ایمان اور اتحاد پر یقین رکھتے ہیں۔ ہالینڈ اور یورپ میں موجود پاکستانی مسیحی پناہ گزین کو انصاف دلانے کے لیے جو قدم ہم نے چند سال پہلے اُٹھایا تھا وہ قدم اپنی منزل مقصود تک ضرور پہنچے گا۔ یہ ہمارا ایمان ہے۔ بس ضرورت ہے تو اتحاد کی۔

Advertisements