ملائیشیا میں حکام نے ایک بائبل سوسائٹی سے بائبل کے 300 سے زائد نسخے ضبط کر لیے ہیں کیونکہ ان میں لفظ ’اللہ‘ خدا کے لیے استعمال ہوا ہے۔
بائبل سوسائٹی کے منتظمین نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ضبط کرنے کی کارروائی کے دوران ان کے دو اہل کاروں کو مختصر مدت کے لیے تحویل میں لیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ اکتوبر میں ایک عدالت نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ غیر مسلم خدا کے لیے اللہ کا لفظ استعمال نہیں کر سکتے۔
اس کے بعد اپیل کے نتیجے میں عدالت نے کہا کہ لفظ اللہ صرف اسلام کے لیے لازمی اور مخصوص ہونا چاہیے ورنہ اس سے نقصِ امن کا خطرہ ہے۔
ملائیشیا میں تمام مسالک کے لوگ خدا کے لیے اللہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔
عیسائیوں کا کہنا ہے کہ وہ ملائی زبان میں یہ لفظ عرصۂ دراز سے استعمال کرتے آ رہے ہیں اور یہ فیصلہ ان کے حقوق کا استحصال ہے۔
2009 میں ملائیشیا ہی کی ایک ذیلی عدالت نے اس لفظ کے استعمال کی اجازت دی تھی جس کے بعد ملک میں مذہبی کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا اور کئی گرجا گھروں اور مساجد پر حملے بھی کیے گئے تھے۔
حکومت کے حامیوں نے حکومت کے بائبل ضبط کرنے کے عمل کی حمایت کی ہے تاکہ وزیراعظم نجیب رزاق کے خلاف غریب مسلمانوں میں پائے جانے والے غصے کو کم کیا جا سکے جو حکومت کی جانب سے رعایتیں واپس لیے جانے اور بجلی، پیٹرول اور چینی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے برہم ہیں۔
ملائی زبان میں لکھے گئے بائبل کے یہ نسخے سیلنگور ریاست میں ضبط کیے گئے۔
بائبل سوسائٹی آف ملائیشیا کے سربراہ لی من چون نے روئٹرز کو بتایا کہ ’ہمیں بتایا گیا کہ ہم سیلنگور ریاست کے قانون کے توڑنے کے جرم میں زیر تفتیش ہیں جو غیر مسلموں کو اللہ لفظ استعمال کرنے سے منع کرتا ہے۔‘
وزیراعظم نجیب رزاق کی مخلوط حکومت میں شامل مرکزی جماعت یونائیٹڈ ملے نیشنل آرگنائزیشن یعنی یو ایم این او نے کہا ہے کہ اس کے اراکین سیلنگور ریاست کے تمام گرجا گھروں کے سامنے اتوار کو اللہ لفظ کے غیر قانونی استعمال کے خلاف احتجاج کریں گے۔
یہ بات یو ایم این او کے نائب صدر اور نائب وزیر اعظم محی الدین یاسین کے حوالے سے مقامی میڈیا میں سامنے آئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ سب کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے۔
دوسری جانب سے کونسل آف چرچز آف ملائیشیا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس کارروائی سے بہت پریشان ہوئے ہیں اور انھوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ’مذہبی حقوق کا وفاقی آئین کے تحت تحفظ کرے۔‘
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب ملائیشیا کی حکومت نے کہا تھا کہ کیتھولک مسیحی کا ایک ملائی زبان کا اخبار عیسائیوں کے خدا کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے ’اللہ‘ کا لفظ استعمال نہیں کر سکتا۔
مسلمان ملک کی آبادی کا دو تہائی بنتے ہیں مگر ملک میں ہندو اور مسیحی بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔
وزیراعظم نجیب رزاق کی مخلوط حکومت مئی کے انتخابات میں کامیابی کے نتیجے میں سامنے آئی مگر یہ اس کے نصف صدی پر محیط دورِ حکومت کے سب سے برے نتائج تھے

Advertisements