واٹسن گل
نیدرلینڈز،30-01-2014

ملاشیا میں مسیحیوں کے لیے لفظ اللہ کے استمال پر پابندی کے حوالے سے بہت کُچھ لکھا جا چکُا ہے۔ ملایشیا میں مسیحیوں اور مُسلمانوں کے درمیان ایک قانونی جنگ کا آغاز ہوچکا ہے، گو کے ایک زیلی عدالت مسیحوں کے خلاف اپنا فیصلہ دے چُکی ہے۔
میرا زاتی نظریہ ہے اور تحقیق کی بنیاد پر ہے کہ لفظ اللہ پر کسی مزہب کی اجارہ داری نہی ہے۔ ملائشیا کے کیتھولک چرچ کی دلیل یہ ہے کہ اس ملک کے مسیحی صدیوں سے اللہ کا لفظ استعمال کر رہے ہیں اور یہ بات اسلام کے ظہور سے بھی پہلے کی ہے۔
میرے بہت سے دوست مجھ سے اس بات پر اختلاف کرتے ہیں کہ میں لفظ اللہ کے حق میں کیوں لکھتا اور بولتا ہوں ۔ اختلاف کی حد تک تو ٹھیک ہے، کہ ہمیں ایک دوسرے سے نظریاتی اختلافات کا حق ہونا چاہیے، مگر ایک بات مجھے سمجھ نہی آتی کہ میرے ایک دو دوست اس بات پر مجھ سے ناراض ہیں۔

سب سے پہلے تو ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہماری بحث کی سمت کیا ہے۔ آپ یقین کریں کہ حیرت انگیز طور پر بہت سے دوست لفظ اللہ کے حوالے سے بحث کی سمت کا تعین ہی نہی کر سکے۔ میں بات کا آغاز کرتا ہوں کہ لفظ اللہ عربی کا ایک لفظ ہے جو خُدا کی زات اقدس کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اور عربی میں خُدا کے لیے استمال ہوتا ہے اور اسلام سے بھی سینکڑوں سال قبل سے یہ لفظ موجود ہے۔

اس کے جواب میں بہت سے دوستوں کے جوابات ملاحظہ فرمایے۔ کُچھ کہتے ہیں کہ اللہ ایک بت کا نام تھا۔ کُچھ فرماتے ہیں کہ خُدا کا نام یہووا ہے۔ اور جن کے پاس دلیل نہی وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اللہ سے ہماری کیا واسطہ اور اللہ کے لیے گستاخانہ لفظ استمال کرتے ہیں۔

بات یہاں تک رہتی تو شاید ختم ہو جاتی مگر جب میں نے دیکھا کہ کیچڑ ہماری اُردو کی پرٹسٹنٹ بائبل تک پہنچ چُکا ہے، اور یہ کارنامہ کوئ غیر نہی ہماری اپنے مسیحی بھائ انجام دے رہے ہیں تو میں نے تفصیل سے ایک ویڈیو بنائ اوریوٹیوب پر لوڈ کر دی۔ ہم مسیحیوں کے پاس سوائے بائبل مقدس کے کُچھ بھی نہی ہے جو ہمارے ایمان اور اعتقاد کو مظبوط کر سکے اگر اپنے ہی مسیحی بھائ یہ دعواہ کریں کے اُردوکی پروٹیسٹینٹ بائبل مُسلمانون کی تحریف شدہ ہے، تو پھر ہمارے پاس کیا رہ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ تو ہمارے پاس کُچھ بھی نہی جو ہم اپنے آنے والی نسلوں کو پڑھا سکیں۔

جو دوست کہتے ہیں کہ اسکا نام یہوواہ ہے، تو میرا جواب یہ ہے کہ اس بات سے کس کو انکار ہے کہ اسکا نام یہوواہ نہی ہے۔ مگر ہم اسے خدا، بھگوان، ایشور، گوڈ، خود، تھیوس، رب، میں ہوں سو ہوں، الوہیم، الفا اور اومیگا، نور، ادونائ، ال شیدائ، اور سینکڑوں ناموں اور صفات سے بھی یاد کرتے ہیں، مگر اللہ کے استمال پر بغیر استدلال کے اعتراض کرتے ہیں جبکہ جانتے ہیں کہ بیس ملین عرب ،ملیشیا اور انڈونشیا کے مسیحی اپنی مقدس بائبل میں یہوواہ کے علاوہ اللہ کا استمال کرتے ہیں۔

میرا سوال یہ ہے کہ اگر لفظ اللہ مُسلمانوں کی تخلیق ہے تو لفظ خُدا بھی تو مُسلمانوں کی تخلیق ہے۔ یہ فارسی کا لفظ ہے اور قران کے فارسی ترجمے میں لفظ اللہ کے بجایے خُدا استمال ہوا ہے۔ اگر کل ایرانی حکومت علان کر دے کہ ایران کے مسیحی لفظ خُدا کا استمال نہی کر سکیں گے کیونکہ یہ لفظ وہ اپنے خدا کے لیے استمال کرتے ہیں تو ہمارے پاس اس زات اقدس کے لیے اور کونسا لفظ باقی رہ جایے گا۔ کُچھ مسیحی دوستوں نے تو ارُدو کی پروٹیسٹنٹ بائبل کے خلاف باقاعدہ محاز بنا لیا ہے۔ جس کے گواہ موجود ہیں۔ میں سمجھتا تھا کہ صرف مُسلمانوں میں ہی مزہب کے ٹھیکیدار ہوتے ہیں ، اب معلوم ہوا کہ ہم (اردو) بولنے والوں میں بھی ٹھیکدار موجود ہیں جو فیصلہ کرینگے کہ ہمیں نہ صرف اردو کی بائبل پڑھنے سے اجتناب کرنا چاہے بلکہ کرسمس اور ایسٹر جیسے فضول تہوار منانے سے بھی گریز کرنا چایے،

Advertisements