واٹسن گل
نیدرلینڈز: 02-02-2014
آج صبح ایک مقامی اخبار میں ایک خبر پڑھی، اس خبر کو پڑھ کر حیرت ہوئ سوچا اگر آپ نے یہ خبر نہ دیکھی ہو آپ سے بھی شیئر کرہں۔
خبر کُچھ یوں تھی کہ ٖفیصل آباد کی ضلعی انتظامیہ نے اقلیتوں کے تعلیمی اور فلاحی اداروں کی چھان بین اور ان سے متلعق غیر مُلکی اسپانسر ،فنڈز اور غیر مُلکی سربراہان کے سفری و رہائشی دستاویزات سے متلعق معلومات طلب کر لی۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہر حکومت کا فرض ہے کہ اپنے مُلک کی حفاظت کے لیے جو بھی ضروری اقدامات ہوتے ہیں کیے جایے۔ مگر اس خبر کے حوالے سے مجھے جس بات پر حیرت ہوئ وہ یہ ہے کہ ،غیر ملکی افراد کی سفری دستاویزات اور ان کے مُلک میں آنے جانے کے متعلق معلومات کی زمہداری وزارت داخلہ کی ہے۔ (دوسری حیرت) کہ یہ اقدامات فیصل آباد کی ضلعی حکومت کر رہی ہے، فیصل آباد وہ شہر ہے جو بنیاد پرستی ، دہشتگردی میں جنوبی اور شمالی وزیرستان کے بعد تیسرے نمبر پر آتا ہے۔ یہ شہر سپاہ صحابہ سمیت بہت سی کالعدم مزہبی تنظیموں کے علاوہ پنجابی طالیبان کی جائے پیدائش بھی ہے۔ اسکے علاوہ بہت سے غیرملکی دہشتگردوں کی گرفتاریوں کے بعد ان کے تانے بانے بھی اسی شہر سے ملتے تھے۔ (تیسری حیرت) کے اس شہر کی ضلعی حکومت کو ایکشن بھی اس کمیونٹی کے خلاف لینے کی خیال آیا جو کہ مقامی طور پر سب سے زیادہ امن پسند اور وفادار کمیونیٹی ہے۔ مگر چونکہ مزکورہ فلاحی اور تعلیمی ادارے مسیحوں کے لیے کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں اس لیے مقامی انتظامیہ کی آنکھ میں کھٹک رہے ہیں۔ ان کو مشنری اداروں کے لوگوں کی آمدورفت پر چھان بین کرنی ہے جو کہ باقائدہ ویزہ لیکر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور تعلیمی اور فلاحی کاموں میں رنگ، نسل اور مزہب میں بھی تفریق نہی کرتے۔ ان کی خدمات سے نہ صرف مسیحی بلکہ مسلمان بھی استفادہ حاصل کرتے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا یہ انتظامیہ فیصل آباد، جھنگ اور اس کے گردونواہ کے علاقوں میں موجود ازبک، چیچن، تاجک اور عرب دہشتگروں کی چھان بین کا بھی کوئ ارادہ رکھتی ہے۔ جو پاکستانی کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔

Advertisements