واٹسن گل
نیدرلینڈز: 0302-2014

طالبان کی مذاکراتی ٹیموں میں دو نام شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، اوریا مقبول جان اور انصار عباسی کے نام سامنے آرہے ہیں، اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جس مُلک کے صحافی اس سوچ کے حامل ہوں۔ کہ پاکستان اور آیئن پاکستان کا انکار کرنے والے عناصر ان کو اپنا ہم خیال تصور کرتے ہوں ، تو پھر ہم اپنے وطن عزیز کے لیے صرف دُعا ہی کر سکتے ہیں۔

یہ دونوں صحافی بشمول چند اور بھی پاکستانی جمہوریت، پاکستانی آیئن، پاکستانی مسلح افواج کے دُشمن ہیں۔ اور میں آج سے چار سال پہلے انصار عباسی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار یوٹوب پر اپنی ویڈیو جو کہ اسی کے نام سے ہے اپ لوڈ کر چُکا ہوں۔ اور کئ بار ان کے نام سے لکھ بھی چُکا ہوں ، اور جو میرے ان حضرات کے متعلق خدشات تھے وہ آج اس علان کے بعد کھُل کر عیاں ہو گیے۔ یہ دونوں حضرات آسیہ بی بی کی رہائ پر بہت سخت موقف رکھتے ہیں۔ اس مزاکراتی ٹیم میں ایک اور نام قابل زکر اور دلچسپ مولانا عبدالعزیز
کا ہے جو کہ لال مسجد کے خطیب ہیں اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں کیے جانے والے آپریشن میں طالبان کی لال مسجد میں موجودگی اور ان سے تعلق پر انکار کرتے رہے۔

Advertisements