واٹسن گل
نیدرلینڈز: 09-02-2014

طالبان حکومت پاکستان کو بیوقوف بنا کر نہایت حکمت عملی سے اپنے پتے کھیل رہے ہیں۔ اور ابھی تک طالبان کو اس کھیل میں کسی بھی مرحلے میں شکست نہی ہوئ۔ بلکہ مستقبل کے لیے بھی حکمت عملی شاندار ہے۔
جیسے کہ طالبان پہلے ہی یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ ان کے چالیس سے زیادہ گروپ اس میدان جنگ میں برسرپیکار ہیں اور وہ سب آزاد ہیں۔ یعنی اگر حکومت کے پاکستان تحریک طالبان سے مزاکرات کامیاب ہو بھی جایں تب بھی دہشتگردی کے خاتمے کی کوئ ضمانت نہی۔ اب انہوں نے اپنی تین شرائط پیش کر دی ہیں۔ طالبان نے حکومت تک پہنچانے کے لیے اپنی کمیٹی کو تین شرا ئط بتائی ہیں جن میں قیدیوں کی رہائی، متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی اورشورش زدہ علاقوں سے فوج کی واپسی شامل ہے۔

اب ہوگا یہ کہ طالبان کی سیاسی شوریٰ ، طالبان مذاکراتی کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم اور رابطہ کار یوسف شاہ کے درمیان شمالی وزیرستان میں ہونے والے ین مزاکرات میں اگر حکومت ان کے مطالبات پورے کر بھی دے گی تب بھی یہ خودکُش حملے نہی رکے گے۔ ہاں مگر اسکے بعد طالبان ان حملوں کی زمہدای قبول نہی کیا کرے گا بلکہ کسی اور نام سے ان حملوں کی زمیداری قبول کی جایا کرے گی۔ پھر جس نام سے حملوں کی زمیداری قبول کی جایے گی حکومت ان سے مزاکرات کرے گی۔ اور ان کے مطالبات پورے کرے گی۔ اور پھر تیسرا گروپ اور پھر چوتھا گروپ۔ خدا پاکستان کی خیر کرے۔

Advertisements