ناصری راجباہ ! یہ وہ راجباہ ہے جس کے لیئے میں ٹھیک رات کے 4؛04 بجے ہیں اور میں پاکستان اور پاکستان سے باہر تمام مسیحی تنظیموں سے مخاطب ہو کر پوسٹ ارسال کر رہا ہوں کہ ناصری راجباہ مسیحیوں کے ایک انتہائی اہم چک 51 گ ب خوش پور تحصیل سمندری ضلع فیصل آباد کی سینکڑون مربع ذرعی زمیں کو سیراب کرنے والا نہری راجباہ ہے پہلے تو اس علاقہ میں ایک وفاقی وزیر نے شب خون مارا اور 85 ایکر اراضی کو پیپلز پارٹی دور حکومت میں محکمہ مال اور ریونیو بورڈ کی ملی بھگت سے قابض الاٹیوں کو غنڈہ گردی سے بے دخل کرکے الاٹ کروا لیا گیا اور یہ ہے پاکستان ، بے انصافی کا پاکستان ! کہ اس زمیں کے جو اصل کاشتکار الاٹی تھے وہ فاقوں کی زندگی گزار رہے ہیں اور اس کو کوئی پوچھنے والا نہیں کہ تو نے کس اختیار سے 85 ایکڑ کا مالک بن گیا اور پھر اس علاقہ کی مسیحی برادری پر یہ ظلم کیا گیا کہ ان کی اراضی کو سیراب کرنے کے لیئے جو موگہ بنایا گیا اس کا لیول نہر کے لیول سے بھی اونچا رکھ دیا گیا اور اس علاقہ کی مسیحی برادری کو ختم کرنے کے لیئے انتہائی بھیانک طریقہ سے سازش کی گئی کہ مسیحیوں کو ختم کرنے کے لیئے ان کی زرخیز زمینوں کو بنجر بنا دیا جائے اور اس راجباہ کو جان بوجھ کر ایسا بنایا گیا کہ انہیں منظور شدہ پانی سے صرف ایک چوتھائی پانی مل سکے ۔ اور مسیحی مخالف قوتیں اس منصوبہ پر عمل پیرا ہوئی اور آج ان کی زمینیں بنجر ہو چکی ہیں لیکن کوئی سننے والا نہیں گاوں کی زمینیں بر باد ہو گئیاور 20ہزار مسیحی آبادی جس کا سارا انحصار زراعت پر تھا آج تنگ دستی کے شکار ہو چکے ہیں اور محکمہ ہزاروں درخواستوں ،اور احتجاج کے باوجود انہین ان کا حق نہیں دے رہا کل میں نے اس علاقے کا ایک وزٹ کیا تو جہاں کبھی شاندار فصلیں لہلہاتی تھی وہاں جنگل بن چکے ہیں جہاں کجھی ڈیرے نظر آتے تھے اور مال مویشی نظر آتے تھے آج وہاں جھاڑیان نظر آتی ہیں ، اور جہاں کبھی پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں سننے کو ملتی تھی آج وہاں صرف نیولے بھاگتے اور وہ بھی کبھی کبھار ہی نظر آتے ہیں ،وہ زمینیں جو کبھی سرسوں کے نیلے پھولوں کے گراونڈ نظر آتے تھے آج وہی زمین سفید چادر اوڑھے نظر آتی ہےاور پھر لوگ کہتے ہیں کہ اس علاقعہ میں سب سے زیادہ شراب کی بھٹیاں ہیں اور میں ان سے سوال کرتا ہوں کہ جب کرتا دھرتا لوگوں نے ایک منصوبہ کے تحت ان کی نسل کشی کے لیئے یہ سازش کی ہے کہ ان کا پانی چھین لیا گیا اور وہ بھوکھوں مر جائیں تو ان کے پاس کیا راستہ رہ گیا ہے کیا ان کے بچے تعلیم حاصل کر سکتے ہیں ؟ کیا انہیں روزگار مل جاتا ہے ایک طرف ایک دھائی کا عرصہ گزر گیا ان کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا اور پھر یہ کہا جاتا ہے کہ کہ اس علاقہ کے لوگ شراب کشید کرتے ہیں لیکن اس بات کو ماننے پر تیار نہیں کہ ان کی ایک منصوبہ کے تحت نسل کشی کی جارہی ہے کہ ان کا نہری پانی اتنا کم کر دیا جائے کہ یہ خود اس علاقہ سے ہجرت کر جائیں کیا یہ مسیحی لوگ اسی طرح سسک کر مر جائیں کتنا ظلم ہے کہ اردگرد مسلمانوں کی زمینوں کو تو منظور شدہ پانی سے بھی زیادہ پانی ملے اور حق کاٹ کر دیا جائے مسیحیوں کا ! یہ کہان کا انصاف ہے کیا ان کا یہی گناہ ہے کہ یہ لوگ یسوع کے ماننے والے ہیں اور کیا انہیں پاکستان میں رہنے کا کوئی حق نہیں کیا مسیحی تنظیمیں اس مسلہ پر اس گاؤں کا وزٹ کر سکتی ہیں اور ان کی بدحالی کو عالمی سظح پر اجاگر کر سکتی ہیں کہ مسیحیوں کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں ہو رہا ہے ؟

Advertisements