کالم : دکھارا ۔ دھماکے اور دھمکیاں (تحریر : پرویز اقبال
Parvez 14
ابھی گردشِ دوراں سے زرا فرصت پا کر کمر سیدھا کرنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ فون کی گھنٹی نے پھر سارا ارادہ خاکستر کر دیا۔ فون پر دُوسری جانب سے ایک قلمی دوست نے یہ خبر سُنا کر کمر ہی توڑ دی کہ پاکستان میں تحریکِ طالبان پاکستان، کالعدم لشکرِ جھنگوی اور فدایانِ مُحمد نامی اسلامی جہادی تنظیموں کی جانب سے سابق رُکن قومی اسمبلی آنجہانی شہباز بھٹی شہید کے اہل خانہ اور خاندان کو دھمکی آمیز خط سونپا گیا ہے جس میں اُن سب کو وادیِ اجل میں ابدی نیند سُلا کر اپنا خود ساختہ جہادی فرض پُورا کرنے کے واضح الفاظ رقم کئے گئے ہیں۔ دوست موصوف نے یہ بھی تصدیق کی کہ شہید شہباز بھٹی کے برادر عزیز جناب پال بھٹی صاحب ارض پاک سے پرواز کر چُکے ہیں۔ مُزکورہ دھمکی آمیز خط کی تفصیل یا نقل فراہم کرنے کی میری درخواست کو پلک جھپکے بغیر دوست محترم نے رد کرتے ہوے فرمایا کہ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر ان تمام معلومات کی صیغہ راز میں رکھا جا رہا ہے۔ بڑی حیرت ہوئی کہ خون کی ہولی کھیلنے کے خواہشمندوں کی تفصیلات ابھی بھی بے نقاب کرنے سے گُریزاں ہیں۔ خیر اپنی طرف سے اس دھمکی آمیز پروانے کی پُرزور اور شدید مزمت کرتے ہوے شہید شہباز بھٹی کے خاندان کی سلامتی کی دعا کےبعد میں نے الوداع اور فون بند کر دیا۔ اگر مزکورہ دھمکی آمیز خط ایک بار زیر نظر آجاتا تو مزید کُچھہ کہنے کے قابل ہوتا۔
اپنے انتہائی سینیر اور سرپرست سے اس خبر کی تصدیق کے بعد نہ صرف ان نام نہاد اور درندہ صفت جہادی طالبان کی جانب سے اس فعلِ حیوانیت کی تردید کی بلکہ حُکومت پاکستان کے اعلیٰ حُکام سے شہید شہباز بھٹی کے خاندان کو مُکمل تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور واضح کر دیا کہ کسی بھی نقصان کی زمہ دار نہ صرف براہ راست حُکومت وقت ہوگی بلکہ تمام خداشت دور ہو جائیں گے کہ کہیں نہ کہیں ان بھیڑیوں کو حُکومت کی سر پرستی بھی حاصل ہے۔
پچھلے کئی دنوں سے حُکومت اور طالبان کے درمیان امن کے نُقطہ نظر سے ہونے والے مُذاکرات کی خبریں دن بھر میڈیا پر برا جمان ہیں۔ تجزیہ کاروں کی دُوکانداری بھی عروج پر ہے۔ ایک مولوی صاحب کو ٹیلیویژن پر بار بار یہ دوہراتے سُنا کہ یہ دہشت گرد ہیں ان کا کوئی مذبب نہیں اور نہ ہی دین اسلام ایسے جہاد کا حامی یا اجازت دیتا ہے۔ ایسے میں میرا سوال ہے کہ اگر ان ہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں تو پھر وطن پاک میں کس شرعی نظام کا نفاظ کرنے کی کوشش میں اب تک لا تعداد خون کی ہولیاں کھیل چُکے ہیں۔ ہولی جن کا مذہبی تہوار ہے وہ بھی سال میں ایک بار عقیدت و احتام کے ساتھہ مناتے ہیں لیکن اسلام کے نام پر ہر روز کئی کئی بار خون سے ہاتھہ رنگنے والے کس مزبب کے پیروکار ہیں؟ آے روز لا تعداد بے گُناہوں کو موت کے گھاٹ اُتار کر ، لاکھوں کو یتیم ، ہزاروں کو بیواہ ، سینکڑوں کو بے سہارا اور درجنوں کی معزوری کے زمہ دار یہ طالبان اور دہشت گرد کس جہاد کے بعد حُوروں کی آغوشِ میں عشرت کے تمنا لئے پھرتے ہیں۔ اگر کہیں یہ سچ بھی ہے تو کیا حُوروں کا معیار قبولیت اتنا گر چُکا ھے کی وہ ایسی صورت اور کردار کے حامل درندگان جو تلوے سے سر تک اشرف اُلمخلوقات کے بے گُناہ خون میں ڈوبے ہوے گُناہ کبیرہ کے مستقل مرتکب ہیں کے لئے بناو سنگھار کے بعد سیجِ شبِ اول پر منتظر ہیں؟ انہیں تو ان کی پالتو بلی بھی میاوں کرنے سے پہلے سو بار سوچتی ہو گی۔
جہاد کے دعوے دار ان دہشت گردوں کے نظر میں تو کسی مسجد کی اہمیت ہے اور نہ ہی کوئی خانہِ خُدا ان سے محفوظ ھے جب بولنے والے ان حیوانوں کے نزدیک مساجد اور گرجا گھروں کی کوئی قدر و منزلت نہیں تو جنت الفردوس اور اُس میں موجود بےعیب آسائشوں کی عظمت کس طرح جانیں گے۔ یہاں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ حُور تو کیا اگر کوئی چُڑیل ہی انہیں گھاس ڈال دے تو یہ اسی کو اعزاز سمجھیں اور خوب سیر ہو کر ڈکار لیں۔
ایک طرف تو حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا ڈھونگ رچاھوا ہے اور دوسری طرف پُورے ملک میں دہشت کا بازار گرم ھے جس میں روز بروز اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ اگر طالبان مُزاکرات کے زریعے قیام امن کے حقیقی خواہاں ہیں تو پھر حالیہ دشت گردی کے پیچھے کن کا ہاتھہ ہے؟ کیا یہ مُزاکرات دکھاوا ہیں؟ یقیناٰ دکھاوا ہی ہیں۔ دھماکوں اور دھمکیوں کا یہ سلسلہ اگر یوں ہی چلتا رہا تو حکومت کو ابھی سے کمر بستہ تیار رہنا ھو گا کہ موجودہ طا لبان سے مزُاکرات کے بعد (جن کی تکمیل اور کامیابی کے کوسوں دور تک آسار نہیں) طالبان کے دوسرے اور تیسرے اور پھر چوتھے اور سلسلہ وار دھڑوں سے مُزاکرات کرنا ہوں گے۔ ابھی تو حکومت طالبان کے ایک بیج سے نبرد آزما ہے پُورا تربوز ابھی باقی ہے دوست ۔

یہ امر ہر خاص و عام پر تو روز روشن کی طرح واضح ہے کہ طالبان کی اپنی صفوں میں اتحاد و یکجہتی کا تصور نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو حکومت اور طالبان کے درمیان مُذاکرات کے دوران شہید شہباز بھٹی کے اہل خانہ اور خاندان کو یہ دھمکی نہ ملتی، نہ ہی قرآن مجید فُرقانِ حمید کی تلاوت کے دُوران چار خواتین کسی خود کُش بمبار کے حدف میں آکر شہید ہوتیں۔ نہ آستانے میں موجود زکر و فکر میں مگن اُمت محمدی پر حملہ ہوتا، کئی اور واقعات جو روز کا معمول ہیں اور ہرعام پاکستانی شہری کو تو نظر آتے ہیں لیکن پتہ نہیں احباب اختیار کون سا طلسماتی چشمہ پہنے ہوے ان سے لا تعلق ہیں۔ یا پھر جان بُوجھہ کر عوام اُلناس کی آنکھوں میں دُھول جھونکنے کی کوشش میں یہ بھول بیٹھی کہ
“بابا یہ جو پبلک ہے نا یہ سب جانتی ہے“ پرویز اقبال (ہالینڈ

Advertisements