واٹسن گل نے 4 مارچ 2014 کو ڈچ پارلیمنٹ ہال میں ہونے والی میٹینگ میں شرکت سے معزرت کر لی۔
میں اپنے تمام دوستوں سے جو نیدرلینڈز سے تعلق رکھتے ہیں اور جنہیں میں نے اس میٹینگ میں شرکت کی دعوت دی تھی جن میں خصوصی طور پر ریورنڈ پاسٹر نیم دین، ایونجلسٹ مائکل ویلئم ، ساجد بھٹی ، عابد شکیل ، فراز اعجاز، پاسٹر علیشا سمیویئل اور سید شفیق سے معزرت چاہتا ہوں

برطانیہ سے تعلق رکھنے والی ایک این جی او نے ڈچ پارلیمنٹ کے ممبرز کے ساتھ مل کر ایک میٹینگ منعقد کی جس میں راقم یعنی واٹسن گل کو بھی دعوت دی گئ جسے میں نے بخوشی قبول کر لیا کیونکہ مجھے بتایا گیا تھا کہ اس میٹینگ کا مقصد پاکستان کی اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھانا ہے اور جس میں برطانیہ سے ولسن چوہدری سمیت جماعت احمدیا سے بھی نمایندے شرکت کر رہے ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ پاکستانی مسیحوں کے حالات پر مجھے روشنی ڈالنی ہے اور اس حوالے سے پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات بھی دینے ہیں۔ مجھے اس میٹینگ کے حوالے سے تمام معلومات فون پر دی جاتی رہیں، جبکہ میرے اسرار پر کے مجھے اس میٹینگ کے حوالے سے تمام معلومات ای میل کے زریعے پہنچائ جاییں مگر سوائے شرکت کی دعوت کے مجھے کوئ تفصیلی معلومات فراہم نہی کی گئ۔ آج یعنی 3مارچ کو مجھے میٹینگ کے منتظمین کا فون آیا اور میرے بہت اصرار پر مجھے بتایا گیا کہ اس میٹینگ میں کچھ بلوچ راہنما بھی شرکت کر رہیے ہیں ۔ اور یہ بلوچستان ریاست کی خودمختاری کے حوالے سے آواز بلند کرتے ہیں۔ اس پر مجھے تشویش ہوئ اور میں نے شرکت پر معزرت کر تے ہوئے بتایا کہ ہم مسیحوں کو بے شک پاکستان میں پرابلمز ہیں مگر ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور ہم پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کی بات کرتے ہیں۔ اور کسی بھی ایسی میٹینگ یا اجلاس میں شریک نہی ہونگے جو پاکستان کو صوبائ، جغرافیائ، مزہبی لسانی طور پر تقسیم کرے اور وفاق کے خلاف ہو۔

Advertisements