واٹسن گیل
نیدرلینڈز: 9 مارچ 2014
جوزف کالونی کا حادثہ ایک برس گزرنے کے باوجود آج بھی ہمارے زہنوں میں خوف بن کر چھایا ہوا ہے۔ گو کہ حکومت نے کافی حد تک مالی مدد کر کے اس بدقسمت کالونی کو دوبارہ کھڑا کر دیا مگر کیا یہ کافی ہے۔
Joseph Colony,Photo
ایک مسیحی اور ایک مسلمان دوست کے درمیان ہونے والے جھگڑے نے پوری کالونی کو جلا کر خاک کر دیا ۔ساون مسیح جیل میں ہے۔ مگر شاہد عمران کیوں آزاد ہے۔ وہ 124 افراد جو اس کالونی کو جلانے کے زمہدار تھے وہ آج سب کے سب آزاد کیوں ہیں۔ کیوں ہماری عدالتیں ویڈیوز میں موجود مجرموں کو سزا دینے کے بجائے خوفزدہ مسیحوں کو ان مجرموں کے خلاف گواہی دینے پر مجبور کرتے ہیں۔ کیوں آج بھی جوزف کالونی کے مکین کالونی کے گیٹ سے باہر نکلتے ہی خود کو بے یار و مدد گار سمجھتے ہیں۔ کیا حکومت کی جانب سے دی جانے والی مالی مدد ان کے دلوں سے خوف اور نفساتی دباؤ کو ختم کر سکتی ہے۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب کسی کے بھی پاس نہی ہے۔ اگر شانتی نگر کے زمداروں کو سزا دی جاتی تو شائد گوجرہ کا واقعہ نہ ہوتا۔ یا پھر گوجرہ کو جلانے والوں اور ان آٹھ بے گناہ مسیحوں کو زندہ جلانے والوں کو سزا ملتی تو شاید جوزف کالونی کا واقعہ رونما نہ ہوتا۔
آج بھی شانتی نگر، تحسیر ٹاون، سمبڑیال، عسیی نگری، گوجرہ ،جوزف کالونی کے مجرم آزاد ہیں۔ گستاخ رسول کا قانون کسی خوفناک اژدھے کی طرح ہمارے لوگوں کو نگل رہا ہے ۔ مگر انصاف کی دیوی شاید کسی کال کوٹھڑی میں بند ہے

Advertisements