رُوت رُخسانہ)‬آپ مان کیوں نہیں لیتے کہ آپ نے مارا ہے آمنہ کو۔ آمنہ کے قاتِل آپ ہیں سفاک درندوُں نے اُس کی زِِندگی چھینی تو آپ سب نے مِلکر اُس سے جینے کا حق بھی چھین لیا۔ آپ نے آمنہ کے لئے زِندہ رہنے کی آپشن چھوڑی ہی نہیں اور اُس نے خُود کو آگ لگا لی۔ تو یہ خُودکشی کیسے ھوئی یہ تو سراسر قتل ہے۔ سریِ عام قتل۔۔ آمنہ نے اپنی لاش کو جلایا تھا مَر تو وہ بچاری پہلے ہی چکی تھی۔۔اُُس نے خُودکشی بعد میں کی اُسے مار آپ نے پہلے ہی دیا تھا، آپ کے ھاتھوں کئی آمنہ پہلے بھی قتل ہوئیں، یہ کوئی نئی بات تو نہیں ہے نا۔ جب تک آپ کِسی کی بہیں، بیٹی کو اپنی بہیں،اپنی بیٹی سمجھکر اُس کے لئے آواز نہیں اُٹھائینگے، اسکے حق کے لئے قدم آگے نہیں بڑھائنگے۔ آمنہ قتل ھوتی رہے گی اور مَیں کہتی رہوُنگی کہ آپ ہر آمنہ کے قاتِل ہیں، ہر آمنہ کے مُجّرم آپ ہیں۔ آپ بھی اُتنے ہی گُنہگار ہیں جِتنا کے آمنہ کو آگ میں جلتا، تڑپتا، مرتا دیکھتا ہوا پولیس والا۔۔۔ میرے مُلک کا، میرے معاشرے کا ہر باپ آمنہ کا قاتِل، ہربھائی آمنہ کا مُجّرم ہے

۔( ہر باپ اور ہر بھائی کے نام کھلا خط )
( رُوت رُخسانہ)‬

Advertisements