کینیڈا سے ایک پاکستانی مسیحی ڈیپورٹ ہو گیا اور ہماری پاکستانی مسیحی لیڈرزشپ اور کمیونیٹی نے اس کے لیئے سوائے زُبانی جمح خرچ کے کُچھ نہ کیا۔
ایک پاکستانی مسیحی نوجوان کرسٹی جو کہ کراچی کے ایک عزت دار گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ چند سال قبل اپنا ایک گردہ دینے آیا اور اپنے ہی جیسے ایک نوجوان مسیحی کو دوسری زندگی دے گیا۔ اس کا قصور یہ تھا کہ وہ اس وسع ؤ عریض دُنیا کے سب سے بڑے رقبے والے ملک میں اپنے لئے چھوٹی سی جگہ تلاش کرنے لگا۔ دوسرا قصور یہ تھا کہ وہ ان ممالک میں لیگل طور پر رہنے کے طریقوں سے نا واقف تھا۔ اور سمجھتا تھا کہ اتنے بڑے ملک میں اتنی بڑی پاکستانی مسیحی کمیونیٹی ہے اور اس میں بھی بہت بڑی کمیونیٹی اس کی پاکستان سے واقف ہے اور شائد یہ اسکے اپنے ہیں۔
گو کہ میں بھی اسے جانتا تھا مگر رابطہ کا فقدان تھا۔ تقریبا ڈھائ ماہ قبل اسے حکومت کی جانب سے ایک خط موصول ہوا کہ اسے 18 مارچ کو ڈپورٹ کر دیا جائے گا۔ وہ پریشان ہو گیا کیونکہ اسے حال ہی میں ایک نوکری ملی تھی اور اپنے سپنے سچ ہوتے دکھائ دے رہے تھے، مجھے میرے ایک بچپن کے دوست نے فون کیا اور تمام حالات سے آگاہ کیا۔ میرے لیے بھی یہ ایک دُکھ کی بات تھی کہ ایک مسیحی بھائ کرسٹی جو کہ پاکستان کے مخدوش حالات کی قید سے آزاد ہو کر کینیڈا پہنچا تھا اب اسے واپس نہی جانا چاہے تھا۔ ابھی تقریبا 7 ہفتے تھے ہم اس کے لیے کُچھ بھاگ دوڑ کر سکتے تھے۔ سو میں نے اور میرے دوست نے سوچا کہ کُچھ کیا جایے۔ ہمیں ہتھیار نہی ڈالنے چاہیے۔ میرے کینیڈا میں کُچھ متحرک لوگوں سے رابطے تھے۔ اپنے رابطے بھی استمال کئے اور ایک مسیحی دوست جو کہ معروف مسیحی ٹی وی کے اینکر بھی ہیں ان سے بھی رابطہ کیا۔ خوش قسمتی سے وہ جنوری میں برطانیہ سے کینیڈا کے دورے پر تھے۔ انہوں نے بھی مجھے ایک فون نمبر دیا۔ مختصر یہ کہ پہلے میں ایک معروف شخصیت سے رابطہ کر چکُا تھا اور انہو نے مجھے تسلی دی کہ یہ کوئ مسلئہ نہی ہے اور وعدہ کیا کہ وہ اس مسیحی نوجوان کو ڈپورٹ نہی ہونے دیں گے۔
پھر بھی میں نے مسٹر ٹی سے بھی رابطہ کیا اور ساری صورت حال ان کو بتائ ،ان کا مشورہ تھا کہ اگر مسٹر پی اس کو حل کر رہے ہیں تو ٹھیک ہے اگر نہ ہو سکا تو پھر مجھے بتایئں۔ دن بہ دن امید بڑھتی جا رہی تھی۔ اور جیسے مشورے مسٹر پی نے دیئے تھے ان پر مکمل طور پر عمل ہو رہا تھا۔ مگر جب اچانک ڈپورٹ سے دو دن قبل میرے دوست نے مجھے فون کیا اور کہا کہ مسٹر پی نے کہا کہ اسے جانا پڑے گا کُچھ نہی ہو سکتا یہ سُن کر میں پریشان ہو گیا۔ میں نے اور میرے دوست مسٹر ایل نے اپنی اپنی کوشش شروع کر دی۔ مین نے اس دوران کینیڈا کی ایک معروف پاکستانی مسیحی بہن سے بھی رابطہ کیا جو کہ ایک وکیل بھی ہیں۔ اور مسٹر ٹی سے بھی رابطہ کیا۔ اس بہن نے مجھ سے سے کہا کہ کرسٹی سے میری بات کروایں۔ کرسٹی ڈر کے مارے چھپ گیا تھا میرا رابطہ منقطہ ہو گیا۔ اب میں تین معروف لیڈرز کے درمیان پھنسا ہوا تھا۔
کرسٹی کو دو دن بعد ڈپورٹ ہونا تھا۔ اور اس بچارے نے ہماری ایک نام نہاد لیڈر کے کہنے پر بلکہ حکمت عملی کے طور پر خود کو پولیس کے سامنے پیش کر دیا تھا۔ مجھے سمجھ نہی آرہا تھا میں غصے میں سب سے ایک سوال کر رہا تھا، مگر میرے اس سوال کو وہی لیڈر دوسرے لیڈر سے غلط انداز میں پیش کر رہا تھا۔ اور میں اپنے دوست ایل کو کہہ رہا تھا کہ میرا سوال سخت ہے مگر کرسٹی کے لیئے اگر یہ کچھ کر لیتے ہیں تو میں ان سے معزرت کر لونگا۔ اور پھر 18 مارچ کو مجھے میرے دوست ایل کا فون آیا کہ کرسٹی کو واپس پاکستان ڈپورٹ کر دیا گیا۔
کسی بھی لیڈر نے کُچھ نہی کیا آپسی اختلافات کی وجہ سے دیکھتے رہے۔ پلانیگ یہ تھی کہ کرسٹی خود کو پولیس کے حوالے کرے گا اور 18 مارچ سے پہلے وہ کرسٹی کو چند دنوں کے لیے غیرقانونی طور پر رکھکر اسکا اسائلم کروا دینگے۔ مگر اتنے بڑے نام اور اتنا بڑا ملک کرسٹی کو چند دن کے لئے غیر قانونی طور پر ایک بستر فراہم نہ کر سکے ۔نام نہ لکھنے کا مقصد یہ ہر گز نہی کہ میں کسی سے ڈرتا ہوں بلکہ صرف یہ کہ ان میں آپسی اختلافات نہ ہوں۔
اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ میرے کونسے سوال پر یہ لیڈر ناراض ہو رہے تھے۔ جب کرسٹی کے جانے میں صرف دو دن تھے اور کچھ نظر نہی آرہا تھا تو میں غصے میں ان سے یہ سوال کر رہا تھا کہ اگر کوئ لیڈر اس بندے کے لیئے کُچھ نہی کر سکتا تو وہ کیسے اپنے آپ کو لیڈر کہہ سکتا ہے۔ میرے اس سوال پر یہ چراغ پاہ ہیں

Advertisements