خبردار:ساون کو روک لو اگر یہ چلا گیا تو بوند بوند کو ترسو گے : پرویز اقبال
Parvez
ساون مسیح کی سزاے موت سے ثابت ہوا کہ عدلیہ بے بس ، قانون اپاہج اور حکومت مفلوج ہے۔

گُزشتہ ہفتے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جواں سال بے قصور اور معصوم مسیحی نوجوان ساون مسیح کو توہین رسالت کے من گھڑت مقدمے میں نام نہاد آزاد عدلیہ نے موت کی سزا سُنا کر یہ ثابت کر دیا کہ انصاف کی کُرسیوں پر بُرا جمان قانون کی بالا دستی پر ٹائیں ٹائیں کرنے والے ان طوطوں کی جان آج بھی دہشت گرد جادو گروں کے ہاتھ میں ہے۔ جو اپنے دیوتاوں کو خوش کرنے کے لئے کسی بھی بے قصور کی بلی چڑھا کر اپنی زندگی بچانے کو ترجیح دے کر قانون کے اوراق کی ایسی دھجیاں اُڑاتے ہیں کہ خود قانون بھی بے بس و شرمسار نظر آتا ہے۔
سُنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قانون اندھا مگر اس کے ہاتھہ لمبے ہیں۔ واقعی انصاف کا ترازو سامنے سجاے عدالت کی کُرسی پر بیٹھے جج موصوف نے بھی یہ سچ ثابت کر دیا کہ قانون واقعی اندھا ہے اور خود جج کہلانے والے حضرت چاندی کی چمک یا گھن گرج کے خوف سے نابینا ہو بیٹھے ہیں جنہیں ساون مسیح کو سزاے موت سُناتے ہوے ساون مسیح پر جھوٹے الزامات کی بوچھاڑ تو محسوس ہوئی لیکن صداقت کی جانچ کو پس پشت ڈالنے میں کوئی عار محسوس نہ ہوئی۔ اگر اسلام اور انصاف کے نام پر سچ میں انصاف کرنے والوں کی آنکھوں میں پانی اور روشنی باقی ہوتی تو توہین رسالت کے نام پر بناے جانے والے اس قانون کے ہر قانون شکن کو تختہ دار پر لٹکایا جاتا۔ رمشا کیس میں توہینِ رسالت کے حقیقی مرتکب مولوی کو باعزت بری نہ کیا جاتا۔ایسی بہت سی مثالیں ہیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اگر قانون اور اس کے رکھوالے باضمیر ، خود مُختار اور بینائی کے نعمت سے آراستہ ہوتے تو جوزف کالونی بادامی باغ لاھور کے دو سو سے زاہد گھروں میں بائیبل مُقدس کی بےحرمتی کے بعد نظر آتش اور اسی کالونی میں چرچ کے تقدس کو سر عام پامال کرنے والے انسانی کھال میں بھیڑئیے آج آزاد فضاوں میں دندناتے نہ پھرتے بلکہ اسی قانون کے تحت بیڑیوں میں جکڑے ہوتے۔ اگر حقیقی معنوں میں مزببی تعلیمات کی پیروی ہوتی تو اسلامی جمہویہ پاکستان میں معصوم ، بے گناہ اور سادہ لوح مسیحیوں کے خون سے عُلماء ، عدلیہ ، قانون اور حکومت خون کی ہولی کھیلنے میں فخر محسوس نہ کرتے اور نہ ہی ارض پاک کو گُناہ کبیرہ کی آماجگاہ کا خطاب ملتا۔

زمانہ جانتا ہے کہ جوزف کالونی پر حملہ خود صوبائی حکومت نے یہ زمین ہتھیانے کے لئے صرف کروایا ہی نہیں بلکہ قانون نافظ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر اس کی سر پرستی بھی کی۔ اگر یہ سچ نہیں تو اس حملے میں ملوث مُلزمان آج آزاد کیوں ہیں؟؟؟ ان مُلزمان کو توہین مذہب کی اجازت اور آزادی کس نے دی؟؟؟ اسلام تو اپنے پیروکاروں کو اقلیتوں کا امین اور محافظ ہونے کا درس دیتا ہے پھر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہزاروں مسیحی خواتین ، مرد ، بشول بُزرگ اور نابالغ اپنے ناکردہ جرائم کی چکی کیوں پیس رھے ہیں؟؟؟

میں یہاں بڑی آزادی سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام احباب اختیار کو خبردار کرتے ہوے اپیل کرتا ہوں کہ ساون مسیح کو اس ناکردہ گُناہ سے باعزت بری کرکے اسے خاندان سمیت بیرون ملک منتقل کیا جاے کیونکہ ان سب اور ہم سب کو پورا یقین ہے کہ ارض پاک میں ساون مسیح کو آزاد زندگی اور مُکمل تحفط فراہم کرنا حکومت اور قانون نافظ کرنے والے اداروں کے بس میں نہیں اور نہ ہی ہمیں کسی یقین دہانی کا یقین اور ان کا اعتبار ہے۔ اگر حکومت ایسا کرنے میں ناکام رہی تو حکومت کو اس حقیقی امر سے خبردار رہنا ھو گا کہ اگر یہ ساون چلا گیا تو پھر وطن عزیز میں کوئی ساون نہیں برسے گا۔ ابھی تو صرف تھر اور چولستان میں ٹریلر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ کہیں یہ منظر طول وعرض میں نہ پھیل جاے۔ وطن عزیز ہے تو ہم ہیں اور ہم ہیں تو تُمہاری شان اور حکومت ہے۔ مُجھے اعتراف ہے کہ اس سمت طویل مکالمہ بازی کی جا سکتی ہے لیکن بہاں میں اپنا ایک قطعہ جو تین سال قبل لکھا تھا آپ تمام کی نظر کرتا ہوں

زلزے سیلاب گھر گھر میں صف ماتم بچھی
قہر اور غضبِ الہیٰ کی ہیں سارہ جھلکیاں
نفل ِ شُکرانہ پڑھو کہ چند مسیحی ہیں ابھی
ورنہ کب کی آگ اور گندھگ برس جاتی یہاں

Advertisements