واٹسن گل،
نیدرلینڈ: 1 اپریل 2014
پاکستانی مسیحیوں کے مسائیل سے مطلق ہونے والی سکایئپ میٹینگ نہایت کامیاب رہی جس میں نہ صرف ہمارے پاکستانی مسیحی بہن بھائ جو کہ تھائ لینڈ، سری لنکا اور ملیشیا میں بہت مشکل میں ہیں ان کے مطلق تھی بلکہ اس میٹینگ میں ساون مسیح کے ساتھ ہونے والے ظلم کی شدید مُزمت کی گئ، بلکہ اس میٹینگ میں احتجاجی مظاہروں سے مطلق ایک غیررسمی قرارداد بھی پیش کی گئ جو متفکہ طور پر منظور ہو گئ۔
تفصیلات کے مطابق ہمارے پاکستانی مسیحی بہن بھائ تھائ لینڈ، سری لنکا اور ملیشیا کے حوالے سے شروع کی گئ تحریک ایک مضبوط جدوجہد کی شکل اختیار کر گئ ہے۔ اسکے ساتھ ہی ساون مسیح کے سااتھ ہونے والا واقعہ ہمارے مسیحی لیڈرز کے منہہ پر تماچہ ہے۔ جو کہ ایوانوں میں بیٹھ کر خاموش ہیں۔
میٹینگ میں بیلجئم سے جناب لطیف بھٹی، جناب شاہد پرویز، پاسٹر جان اشرف، پاسٹر کامران تھامس، فرانس سے جناب شاہزیب بھٹی، اٹلی سے جناب سرور بھٹی ،جناب گلریز طاری، جرمنی سے جناب طارق جاوید رندھاوا، برطانیہ سے جناب تسکین خان، پاکستان سے جناب جیکسن گل، شاہد اقبال، گلزار روی، تھائ لینڈ سے کرسٹی خورشید اور نیدرلینڈ سے جناب بوبی باب اور واٹسن گل شامل تھے۔ جبکہ پاکستان سے سسٹر روتھ رخسانہ وقت کے تبدیلی کی وجہ سے دیر سے شریک ہوئ۔
میٹینگ معروف سماجی اور سیاسی شخصیت اور بیلجیئم پارلیمنٹ ممبر جناب لطیف بھٹی صاحب نے لیڈ کی اور بیلجئم تعلق رکھنے والے نہایت قابل احترام پاسٹر جان اشرف کی دعا سے میٹینگ کا آغاز ہوا۔ پاکستانی مسیحی میڈیا کے حوالے سے جانا پہچانا نام اور معروف ٹی وی اینکر جناب تسکین خان نے کہا کہ ہمیں ساون مسیحی اور گستاخ رسول کے قانون کے خلاف مظاہروں کا ایک سلسلہ شروع کرنا چاہئے۔ جواب میں اٹلی اور فرانس سے تعلق رکھنے والے اور یورپ میں اپنی خدمات کے حوالے سے معروف شخصیات جناب سرور بھٹی اور جناب شاہزیب بھٹی نے بتایا کہ انہوں نے اپنے اپنی ممالک میں مظاہروں کی تیاری کر لی ہے۔ اور جلد ہی پروگرام کی ترتیب سامنے آ جائے گی۔ پاکستان سے جناب جیکسن گل اور جناب شاہد اقبال صاحب نے کہا کہ آپ لوگ جس دن یورپئین پارلیمنٹ کے سامنے مظاہرے کا علان کرینگے اسی دن ہم بھی پاکستان میں مظاہرہ کرینگے۔ واٹسن گل نے پٹیشن کے حوالے سے ٹیم ممبرز کو بتایا کہ معلومات کی روشنی میں پتہ چلا ہے کہ کمپوٹرز میں وائرس کی وجہ سے 1000 دستخط ڈلیٹ ہو گئے ہیں، مگر یہ دوبارہ ہو سکتے ہیں۔ واٹسن گل نے تمام ٹیم ممبرز سے درخواست کی کہ دستخطوں کے لئے دوبارہ سے کوشش کی جائے۔
میٹین میں حتمی طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ یوروپیئن پارلیمنٹ کے سامنے ایک مظاہرے کا اہتمام ہونا چاہیے۔ اور اس کے لیئے تاریخ کا علان ہو نا چاہے۔ جس پر جناب لطیف بھٹی صاحب نے کہا کہ اگلی میٹینگ میں وہ تاریخ کے حوالے سے حتمی طور پر علان کر سکتے ہیں جس پر تمام ممبرز کی متفکہ رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ اگلی میٹینگ 3 اپریل کو شام 6 بجے سکایئپ پر ہوگی۔
آخر میں بیلجئم سے تلعق رکھنے والے نہایت قابل احترام پاسٹر کامران تھامس دُعاءخیر سے سب کو رخصت کیا۔

Advertisements