نوماہ کا پاکستانی موسیٰ  فرعون ِوقت کے شکنجے میں : پرویز اقبال

lahorpolice-9yearbaby-firagainst-Pakistan-infant_4-3-2014_143373_l-520x340

ہالینڈ:  پاکستانی پولیس کو یہ اعزاز تو حاصل ہی تھا کہ اُس نے ایک ہاتھی سے یہ قبول کروا لیا کہ میں ہاتھی ہی چیونٹیوں کا چور ہوں۔ لیکن نو ماہ کے معصوم موسیٰ کو اقدام قتل کے مُقدمے میں جب عدالت میں پیش کیا گیا تو پوُری دُنیا میں پاکستانی پولیس کی انتقامانہ صورت کھل کر سامنے آ گئی۔ حقوق اطفال کی قومی اور بین الاقوامی تنظیموں کے گُمان میں بھی نہیں تھا کہ گینیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ کی بُلندیوںمیں نام درج کروانے کی خواہش میں پاکستانی پولیس نہ صرف اس درجہ گر سکتی ہے بلکہ تعزیرات پاکستان کی دفعات کےساتھہ کھلم کھلا مذاق اور حسب منشاء استعمال سے پل بھر کو بھی نہیں ہچکچاے گی۔
پاکستان مُسلم لیگ نواز کی وفاق اور صوبائی حُکومت کی ناک کےعین نیچے پاکستانی پولیس کے نڈر اور خود مُختار افسران نے بڑی فراغدلی اور پھرتی کا میڈل سینے پر سجانے کی کوشش میں نہ صرف پاکستان بلکہ دُنیا کی تاریخ میں اقدام ِ قتل کے سنگین مُقدے کا کم عمر ترین مُجرم درج اور شامل تفتیش کر کے زاتیات اور قانون کا تیا پائچہ کر نے کی جو مثال قائیم کی ہے کسی دوسرے ملک کی پولیس اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔ پاکستانی پولیس کے اس جہالت آمیز اقدام سے نہ صرف قانون نافظ کرنے والے اداروں کی اصل صورت و قابلیت سامنے آئی ہے بلکہ وطن عزیز اور ہر پاکستانی کا سر شرم سے جُھکا نے میں کوئی کسر نہین چھوڑی۔
موسیٰ کا لفظی مطلب  “ پانی سے نکلا ہوا “ ہے تاریخ بتاتی ہے کہ جب موسیٰ نبی کو ملکہ فرعون کی کنیزوں نے پانی سے برآمد کیا تو ننھا موسیٰ  بڑی معصومیت ، سمندری لہروں کے زور اور خطروں سے بے نیاز انگوٹھا  چوس رہا تھا۔ اس طرح جب آج کے معصوم پاکستانی موسیٰ کو عدالت میں پیش کیا گیا تو دادا کی گود میں اپنے جرم اور اس کی ممکنہ سزا سے بے نیاز کبھی دودھ کی بوتل  منہ سے لگا لیتا تو کبھی نادانی سے آس پاس کے ماحول ، میڈیا، پولیس ، وکلاء اور قانون کی مسندوں بیٹھے انصاف کے علمبرداروں کی طرف دیکھ کر نظریں جھُکا لیتا جیسا یہ کہہ رہا ہو کہ آپ میں سے کسی کو بھی مرغے اور مور میں فرق کا پتہ نہیں۔ جب میں بول سکوں گا تو ضرور بتاوں گا۔
پاکستان میں جس طرح بچوں سے جبری مشقت کا قانون تو سب کو نظر آتا ہے لیکن اس پر کتنا عمل ہو رہا ہےاس کی کسی کو پرواہ نہیں۔ بالکل اسی طرح  ننھے موسیٰ کے متعلق پاکستان میں بڑے موٹے موٹے لفظوں اور خوبصورت جلد  کی گئی قانون و شریعت کی کتابوں میں جامع اور مستند قوانین تو موجود تو ہیں لیکن نہ تو ان کو پڑھنے ، جاننے اور عمل کرنے کا وقت پاکستانی پولیس کے پاس ھے اور نہ ہی  یہ پولیس انہیں پوری طرح سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایسے میں یہ سب ہونا ہی ہے۔
حُکومت اور قانون نافظ کرنے والے اعلیٰ حُکام نے اپنے ہاتھہ صاف اور دامن پاک کرتےہوے اس مُقدمے کے تفتیشی آفیسر کو معطل تو کر دیا ہے لیکن کیا یہ اقدام مستقبل میں زاتی رنجش کی بناء پر قانون کی دھجیاں اُڑا نے اور ملک و قوم کو ایسی سُوائی اور پریشانی سے بچانے کے لئے کافی ہے؟  انتہاء حیرت یہ ہے کہ موسی کی عمر ، اور دودھ کی بوتل ہمارے قانون نافظ کرنے والے اداروں ، حکومت ، عدلیہ اور احباب اختیار کو بالکل اُسی طرح نظر نہیں آئی جس طرح وطن عزیز میں قریہ قریہ دندناتے دہشتگردوں کے ہاتھوں میں جدید آتشیں ہتھیار ، اسلحہ و گولا بارود نظر نہیں آتا۔ ایسی صورت میں لمحہ فکریہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا مستقبل کن معماروں کے ہاتھہ ہے اگر موسٰی واقعی اس وقت بول سکتا تو اُس کے سوالوں کے جواب کس کے پاس تھے؟  سچ ہی کسی کمیونسٹ نے پاکستان کے دورے کے بعد کہا تھا کہ اگر خُدا کی ذات کہیں ھے تو وہ پاکستان ہی میں ہے اور وہ ہی وہاں کی عوام کے جان و مال، عزت و ناموس اور بقاء کی محافظ ہے۔    پرویز اقبال   :  ہالینڈ
Advertisements